خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
میگزین

تجھ سے ملے بغیر دسمبرگذر گیا،جمہوراورجمہوریت

پاکستانی سیاست کی عجب رنگ ڈھنگ ہیں یہ وہ اونٹ جس کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی، جموریت کی انہونی کہانیاں سنتے سنتے کئی دہائیاں گذر گئیں لیکن جمہور اور جمہوریت دونوں کبھی…

تجھ سے ملے بغیر دسمبرگذر گیا،جمہوراورجمہوریت

پاکستانی سیاست کی عجب رنگ ڈھنگ ہیں یہ وہ اونٹ جس کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی، جموریت کی انہونی کہانیاں سنتے سنتے کئی دہائیاں گذر گئیں لیکن جمہور اور جمہوریت دونوں کبھی پٹڑی پر نہ چڑھ سکے کبھی روٹی کپڑا اور مکان تو کبھی تبدیلی، سیاست نہیں ریاست بچانے کے نام پر جمہور اور جمہوریت دونوں کو مہنہ کی کھانی پڑی۔ پاکستان جواسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اس میں نہ تواسلامی نظام کو مکمل طور پرلاگوکیا جاسکا اور نہ ہی جمہوریت کو۔یہ سال جو اب اخری سانسیں لے رہا ہے بھی عوام کےلئے گزشتہ کئی سالوں سے کچھ مختلف ثابت نہیں ہوا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس سال میں غیر یقینی کی صورت حال کئی دہائیوں سے سسکتی جمہوریت کے حوالے سب سے زیادہ کمزور ثابت ہوئی تو بے جا نہ ہوگا ۔پاکستان میں اس وقت تین بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ہیں تینوں پارٹیوں کا وجود اس ملک کی مقتدرہ کے مرہون منت رہا ہے اور آج بھی صورت حال گزشتہ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کا ایک ہی دعویٰ رہا ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں لیکن عوام کے ساتھ کون ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے،سیاسی پارٹیاں اور عوام دونوں ہی اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑتے نظرآتے اسی کوشش میں دونوں ہی کئی بار غیرقانونی طریقے سے پانیوں ڈوب جاتے ہیں اور پھر حالات اور سازش کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں نے اب تک تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ایک دوسرے کے گرانے کے چکر میں ان حربوں کو بڑا بے دریغ استعمال کیا جن کا وہ دوسری پارٹیوں پر شدید الفاظ میں الزام لگاتے رہے لیکن بڑی دلیری کے ساتھ وہ بھی ان اقتدار کے حصول کے لیے انہی حربوں کو استعمال کرتے رہے اور اب تک کررہے ہیں جو ان کے مخالفین ان کے خلاف کرتے رہے ۔ ہماری سیاست میں مفاہمت کے بادشاہ کا بھی بڑاذکر رہا لیکن مفاہمت کے لئے چور دراوزوں کا ہی انتخاب کیا گیا اور پھر جمہوریت کے نام پر اس کا خوب پرچار کیا گیا۔اس بات کا خوب واویلا رہا کہ نیب کو سیاسی جماعتوں کے دباؤ میں لانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن سب نے اپنے اپنے دور اس کا خوب  استعمال بھی کیا اور جب داؤ لگا کمی نہ کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے شہید محترمہ بے نظیر کا یہ فقرہ کئی بار دہرایا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے لیکن اس کی وضاحت کبھی نہیں کی کہ یہ انتقام کس سے جمہور یا خود جمہوریت سے کیونکہ ان کی پارٹی سمیت جب بھی کوئی سیاسی حکومت ختم ہوئی تو نہ تووہ جمہوریت سے ہوئی اور نہ ہی جمہور سے کیونکہ جو جمہورکی مہر تھی وہ  لگی کہیں اور نکلی کہیں تو اس کا جمہوریت سے تعلق کبھی بنتے نظر نہیں آیا ۔ سال 2024 میں بھی کوئی ایساعمل دیکھنے میں نہیں آیا جس سے جمہور اور جمہوریت کو کوئی سکون میسر نہ آیا اور قربانی جمہور اور جمہوری اداروں کی ہوئی ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست دانوں جو گڑھے دوسروں کے لئے کھودے ہمیشہ اس میں خود ہی گرئے لیکن مجال ہے جو یہ خود سنبھلے ہوں یا دوسروں کو سنبھلنے کا موقع دیا ہو خود ہی کھیل بھی رہے اور کھلونے بھی ۔ جتنا عرصہ اس ملک میں سیاسی پارٹیوں کو ہوچکا ہے اس عرصہ میں کئی نسلیں پرون چڑھ جاتیں ہیں اور اب تو انہی سیاسی پارٹیوں کی دوسری اور تیسری نسل بھی اسی کاروبار سے وابستہ ہے اگر یہ اب نہیں سیکھ سکے تو پھریا تو یہ سیاست کرنا ہی نہیں چاہتے یا پھر یہ کاروبار انہیں راس آچکا ہے ۔ اب کاروبا کیسے ہے تو اگر سیاست خدمت ہے تو پھریہ کون سی خدمت ہورہی ہے اور کس کی ہوری ہے تو لہذا خدمت کو چھوڑیں بہتر ہے کوئی دوسرا کام پکڑ لیں ورنہ پھر خود بھی پکڑے جائیں گئے اور بدنام نیب یا کوئی اور ہوگا۔ خیر جو ہوا سو ہوا اب روٹی کپڑا ور مکان ، تبدیلی ، سیاست، خدمت سے نکل کر جمہوریت اور جمہور کی عزت ہی بچا لیں تاکہ کچھ سکون ہوجائے یہ دسمبر تو گذر گیا لیکن کوشش کریں کہ آنے والا دسمبر ہنگامہ خیزی ، جھوٹ ، نفرت سے پاک ہو سیاست کریں سیاسی بنیں اب بہت ہوگیا جمہور کے ساتھ بھی اور سیاسیت کے ساتھ بھی۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں