غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کارروائی کاہدف کسی مخصوص ملک کے شہری نہیں ترجمان ،دفترخارجہ
پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کےخلاف جاری کارروائی کا ہدف کسی مخصوص ملک کے شہری نہیں ہیں۔ اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران…

پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کےخلاف جاری کارروائی کا ہدف کسی مخصوص ملک کے شہری نہیں ہیں۔
اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران سوالوں کا جواب دیتے ہوئے دفترخارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ جاری کارروائی ان شہریوں کی واپسی کےلئےہے جو یا تو اپنے ویزے کی معیاد ختم ہونے کےباوجود مقیم ہیں یا پھر ان کے پاس پاکستان میں قیام کےلئے مستند دستاویزات نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ اس کارروائی کا چودہ لاکھ افغان پناہ گزینوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں جن کی پاکستان اپنی مخدوش معاشی صورتحال کے باوجود کئی دہائیوں سے فراخدلی کےساتھ مہمان نوازی کررہا ہے۔
ا ن خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ راہداری تجارت بند کردی ہے ۔ ممتاز زہرابلوچ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت جاری ہے تاہم پاکستان موجودہ تجارتی سہولتوں کا غلط استعمال نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں یا مستقبل میں کہا گیا کوئی بھی اقدام اسی مفاہمت کے مطابق ہوگا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بھارت کی طرف سے پاک مخالف پروپیگنڈے کی ایک رپورٹ سے متعلق ایک اور سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں بھارت کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں لیکن بھارت اس پرمسلسل جھوٹے الزامات لگارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی ٹیم آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ کےلئے بھارت میں ہے اور اسے نقائص سے پاک سکیورٹی اور سازگار ماحول فراہم کرنا میزبان ملک کی ذمہ داری ہے۔
ایک اور سوال پر ترجمان نے کہا کہ وزارت خارجہ کو الیکشن کمیشن کی طرف سے باضابطہ مراسلہ موصول ہوا ہے جس میں آئندہ عام انتخابات کےلئے غیر ملکی مبصرین کو دعوت دینے کا کہا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم اس عمل میں سہولت فراہم کریں گے اور پالیسی اور ماضی کی روایت کے مطابق غیر ملکی مبصرین کو دعوت دیں گے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ مکمل ہوگیا ہے اور کونسل کا 2009 کے بعد کسی ملک کےساتھ اپنی نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد معاہدے کی توثیق اور اس پر عملدرآمد کا خواہاں ہے جس سے خلیج کے ملکوں کو پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور خلیج تعاون کونسل کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔


