خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
پاکستان

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیس فیصد سے زائد مجوزہ حلقوں کی آبادی میں کمی بیشی کی شرح دس فیصد کی قانونی حد سے متجاوز ہے،فافن رپورٹ

الیکشن کمیشن مجوزہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات  مقامی سطح پر وصول کرنے کا اہتمام کرے اور ادارہ شماریات کو آبادی کے تفصیلی اعداد و شمار جاری کرنے کی ہدایت کرے: فافن  الیکشن کمیشن کی…

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیس فیصد سے زائد مجوزہ حلقوں کی آبادی میں کمی بیشی کی شرح دس فیصد کی قانونی حد سے متجاوز ہے،فافن رپورٹ

الیکشن کمیشن مجوزہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات  مقامی سطح پر وصول کرنے کا اہتمام کرے اور ادارہ شماریات کو آبادی کے تفصیلی اعداد و شمار جاری کرنے کی ہدایت کرے: فافن

 الیکشن کمیشن کی جانب سے مجوزہ حلقہ بندیوں پر فافن نے اپنی رپورٹ جاری کر دی فافن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویزکردہ حلقہ بندیوں کی فہرست میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 180 حلقے ایسے ہیں جن کی آبادی  متعلقہ اسمبلی کی فی نشست اوسط آبادی سے قانونی طور پر تجویز کردہ10 فیصد تبدیلی کی عمومی اجازت سے متجاوز ہے۔ حلقوں کی آبادی کا یہ فرق مساوی رائے دہی کے اس اصول کی بھی خلاف ورزی ہے جسے پارلیمنٹ نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں کی گئی حالیہ ترامیم میں اجاگر کیا تھا۔

پارلیمانی منظوری کے بعد 4 اگست 2023 کو نافذ ہونے والی ان ترامیم میں الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیاں کرتے ہوئے اضلاع کی حدود کو نظر انداز کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس اجازت کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ایک اسمبلی کے حلقوں کے درمیان آبادی کا فرق عام طور پر 10 فیصد سے زائد نہ ہو۔ کسی اسمبلی کے حلقوں کے درمیان آبادی کا یہ فرق ایک حلقے کی آبادی کا اس اسمبلی کی فی نشست اوسط آبادی کے ساتھ موازنہ کرکے پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ اسمبلی کی فی نشست اوسط آبادی کو ہی کوٹہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کوٹہ کسی صوبے کی مردم شماری میں بیان کردہ آبادی کو اس صوبے کی قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر تقسیم کر کے نکالا جاتا ہے۔ تازہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا کے حلقوں کے لیے کوٹہ 907,913، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے لیے 787,954، پنجاب کے لیے 905,595، سندھ  کے لیے 913,052 اور بلوچستان کے لیے 930,900 بنتا ہے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے خیبرپختونخوا کا کوٹہ 355,270، پنجاب کا کوٹہ 429,929، سندھ کا کوٹہ 428,432 اور بلوچستان کا کوٹہ 292,047 مقرر کیا گیا تھا۔

حلقہ بندیوں کی ابتدائی رپورٹ اور مجوزہ حلقوں کی فہرستوں کا تجزیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آبادی کے فرق کو کم سے کم رکھنے سے متعلق پارلیمان کی جانب سے کی گئی ترمیم کا بڑے پیمانے پر اطلاق نہیں کیا گیا۔ صرف 11 قومی اسمبلی اور ایک صوبائی اسمبلی کے حلقے میں حالیہ ترمیم کا اطلاق کرتے ہوئے بین الاضلاعی حلقے بنائے گئے ہیں۔ ان 11 قومی اسمبلی کے حلقوں میں سے چھ خیبر پختونخوا میں، تین پنجاب میں اور دو سندھ میں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کا ایک حلقہ ایک سے زائد اضلاع کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس ترمیم کے محدود استعمال کی وجہ سے دس فیصد سے زائد آبادی کے فرق والے حلقوں کی تعداد 2022 کی حلقہ بندیوں سے بھی بڑھ گئی ہے۔ 2022 میں کل 170 حلقوں میں آبادی کا فرق دس فیصد سے زائد تھا جن میں 82 قومی اسمبلی کے اور 88 صوبائی اسمبلیوں کے حلقے شامل تھے۔ حالیہ حلقہ بندیوں میں یہ تعداد 180 ہوگئی ہے جن میں 83 قومی اسمبلی کے اور 97 صوبائی اسمبلیوں کے حلقے شامل ہیں۔  10 فیصد سے زیادہ آبادی کے فرق والے قومی اسمبلی کے مجوزہ حلقوں میں پنجاب کے 35، سندھ کے 22، خیبرپختونخوا کے 21  اور بلوچستان کے پانچ حلقے شامل ہیں۔ اسی طرح صوبائی اسمبلیوں کے دس فیصد سے زائد آبادی کے فرق والے حلقوں میں خیبرپختونخوا کے 30، پنجاب کے 26، بلوچستان کے 25 اور سندھ کے 16 حلقے شامل ہیں۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں