( وحید اختر چوہدری سے) ذرائع کے مطابق پنجاب بار کونسل نے پیشہ ورانہ معیار اور قانونی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر کے 777 وکلاء کے لائسنس معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ معطل کیے گئے وکلاء میں ایسے افراد شامل ہیں جن پر
( وحید اختر چوہدری سے) ذرائع کے مطابق پنجاب بار کونسل نے پیشہ ورانہ معیار اور قانونی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر کے 777 وکلاء کے لائسنس معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ معطل کیے گئے وکلاء میں ایسے افراد شامل ہیں جن پر جعلی یا غیر تصدیق شدہ تعلیمی اسناد رکھنے، لازمی لاء گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ (Law Graduate Assessment Test – LAW-GAT) کی شرائط پوری نہ کرنے یا بار بار ہدایات کے باوجود مطلوبہ دستاویزات جمع نہ کرانے کے الزامات ہیں۔ اس فہرست میں ضلع جھنگ کی ایک خاتون وکیل سمیت مختلف اضلاع کے وکلاء بھی شامل ہیں۔
پنجاب بار کونسل کے ذرائع کے مطابق معطل شدہ وکلاء کی فہرست صوبے بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ عدالتی کارروائیوں کے دوران ان افراد کو وکالت کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وکالت کے پیشے میں شفافیت، میرٹ اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعدد وکلاء کو کئی مرتبہ نوٹسز اور وارننگز جاری کی گئیں، تاہم انہوں نے اپنی تصدیق شدہ ڈگریاں، رزلٹ کارڈز اور دیگر مطلوبہ دستاویزات پنجاب بار کونسل میں جمع نہیں کروائیں۔ ان حالات میں بار کونسل نے ضابطہ کار کے مطابق ان کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
بار کونسل نے مزید متعدد وکلاء کی تعلیمی اسناد متعلقہ جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو تصدیق کے لیے بھجوا دی ہیں۔ حکام کے مطابق تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد مزید وکلاء کے بارے میں بھی قانون اور قواعد کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب عوامی اور قانونی حلقوں نے پنجاب بار کونسل کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے وکالت کے پیشے کے وقار کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جعلی یا غیر مستند اسناد کے حامل افراد کے خلاف مؤثر کارروائی سے نہ صرف پیشہ ورانہ معیار بہتر ہوگا بلکہ ایسے عناصر کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی جو مبینہ طور پر عوام کو دھوکہ دے کر وکالت کے شعبے کو بدنام کرتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر تعلیمی اسناد کی تصدیق، پیشہ ورانہ اہلیت اور لائسنس کے اجراء کے نظام کو مزید سخت اور شفاف بنایا جائے تو وکالت کے شعبے پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور عدالتی نظام میں پیشہ ورانہ معیار کو فروغ ملے گا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *