728 x 90

پنجاب میں بھکاری مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، لاہور کو پہلے مرحلے میں “بھکاری فری سٹی” بنانے کا فیصلہ

پنجاب میں بھکاری مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، لاہور کو پہلے مرحلے میں “بھکاری فری سٹی” بنانے کا فیصلہ

(وحید اختر چوہدری سے) پنجاب حکومت نے پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف صوبہ بھر میں سخت اور نتیجہ خیز کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے مطابق پہلے مرحلے میں لاہور کو “بھکاری فری سٹی” بنانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، جبکہ پیشہ ور بھکاری

(وحید اختر چوہدری سے) پنجاب حکومت نے پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف صوبہ بھر میں سخت اور نتیجہ خیز کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے مطابق پہلے مرحلے میں لاہور کو “بھکاری فری سٹی” بنانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، جبکہ پیشہ ور بھکاری مافیا کے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے سیف سٹی اتھارٹی، ٹریفک پولیس اور متعلقہ انٹیلیجنس اداروں کو خصوصی ٹاسک سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم میں جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام اور انٹیلیجنس معلومات کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا تاکہ منظم گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

ہوم سیکرٹری پنجاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سرپرست عناصر کے بارے میں ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ حکام کے مطابق پنجاب حکومت حقیقی مستحق، مفلس اور بے سہارا افراد کی بحالی کے لیے ویلفیئر ہومز اور سماجی فلاحی اداروں کو بھی مزید مضبوط بنا رہی ہے تاکہ ضرورت مند افراد کو پیشہ ور بھکاری نیٹ ورکس کا حصہ بننے سے بچایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں کارروائیوں کے بعد اگلے مرحلے میں پنجاب کے تمام اضلاع میں پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس مہم کا مقصد صرف سڑکوں سے بھکاریوں کو ہٹانا نہیں بلکہ ان گروہوں کے مالی، تنظیمی اور مجرمانہ نیٹ ورک کو توڑنا بھی ہے، جو خواتین، بچوں اور بزرگوں کو استعمال کرکے بھیک منگوانے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب جھنگ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں شہریوں کا کہنا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مارکیٹوں، چوراہوں، تجارتی مراکز اور عوامی مقامات پر مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ جھنگ میں جیل چوک، شہید روڈ، کوٹ روڈ، ایوب چوک، ضلع کچہری، نواز چوک، یوسف شاہ روڈ، اسلم مارکیٹ، ریل بازار، مین بازار اور انارکلی بازار سمیت متعدد مقامات پر پیشہ ور بھکاریوں کی بڑی تعداد روزانہ دیکھی جا سکتی ہے۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ نیٹ ورک منظم انداز میں کام کرتا ہے اور بعض مقامات پر مخصوص گروہوں کی اجارہ داری بھی قائم ہے، تاہم ان دعووں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔

غیر سرکاری ذرائع کے مطابق صرف ضلع جھنگ میں پیشہ ور بھکاری نیٹ ورک کی یومیہ مالی سرگرمی ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے، جبکہ صوبہ بھر میں یہ کاروبار اربوں روپے تک پھیل چکا ہے۔ ان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض گروہ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو مختلف مقامات پر چھوڑتے ہیں اور شام کے وقت انہیں واپس لے جاتے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار اور دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ سوشل ویلفیئر اور پولیس کی جانب سے وقتاً فوقتاً کارروائیاں کی جاتی ہیں، لیکن مستقل حکمت عملی اور بحالی کے مؤثر نظام کے فقدان کے باعث یہ مسئلہ دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر کا مؤقف رہا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کی مستقل بحالی اور رہائش کے لیے مناسب مراکز اور وسائل محدود ہیں، جس کے باعث اس مسئلے پر دیرپا قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

ماہرین سماجی امور کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں خیرات اور عطیات کی شرح نسبتاً زیادہ ہے، جس سے بعض منظم گروہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق حقیقی مستحق افراد کی مدد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام صرف مستند فلاحی اداروں اور حکومتی پروگراموں کے ذریعے امداد فراہم کریں، جبکہ پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، سماجی بہبود کے محکموں اور عوام کے درمیان مؤثر تعاون کو فروغ دیا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب حکومت اپنے اعلان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے اس مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھتی ہے تو نہ صرف پیشہ ور بھکاری مافیا کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے گا بلکہ عوامی مقامات پر شہریوں کو درپیش مشکلات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos