یکم نومبر کے بعد غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو پاکستان میں غیرقانونی طور پر قیام پذیر غیرملکی باشندوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ…

وفاقی حکومت نے ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو پاکستان میں غیرقانونی طور پر قیام پذیر غیرملکی باشندوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اعلان نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے منگل کے روز اسلام آباد میں نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کے زیرصدارت اپیکس کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کے بعد صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے آغاز اور نگرانی کیلئے وزارت خارجہ میں ٹاسک فورس بھی تشکیل دیدی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا تحفظ اور سلامتی ہماری بنیادی ذمہ داری اور حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کو رضاکارانہ طور پر پاکستان چھوڑنے کی یکم نومبر کی حتمی مدت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو غیرقانونی مقیم غیرملکی شہریوں کیخلاف کارروائی کیلئے متحرک کیا جائیگا اور انہیں حتمی تاریخ کے بعد ملک بدر کیا جائیگا۔سرفراز احمد بگٹی نے یہ اعلان بھی کہا کہ یکم نومبر کے بعد ایسے تمام افراد کی جائیدار و املاک ضبط کر لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پاکستانی شہری بھی غیرقانونی کاروبار میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ افغان شہری اس مہینے کی دس سے اکتیس تاریخ تک ای تذکرہ دستاویز پر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں لیکن اس کے بعد ویزہ اور پاسپورٹ لازمی ہوںگے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ نادرا کے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے مشکوک افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیاجائے گا۔


