728 x 90

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2026 کی افتتاحی تقریب، ماں اور بچے کی غذائیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2026 کی افتتاحی تقریب، ماں اور بچے کی غذائیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، عالمی خوراک پروگرام (WFP) اور وزارتِ قومی صحت کے تعاون سے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد میں ماں کا دودھ پلانے کے عالمی ہفتہ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں، طبی ماہرین

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، عالمی خوراک پروگرام (WFP) اور وزارتِ قومی صحت کے تعاون سے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد میں ماں کا دودھ پلانے کے عالمی ہفتہ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں، طبی ماہرین اور غذائیت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی اور ماں کا دودھ پلانے کے فروغ، تحفظ اور حوصلہ افزائی کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کی زندگی کا بہترین آغاز ہے اور یہ ہر نومولود کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ پلانا بچوں کی بقا، خاندان کی خوشحالی، انسانی وسائل کی ترقی اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے ماؤں پر زور دیا کہ وہ پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلائیں اور بلا ضرورت فارمولا دودھ اور فیڈر کے استعمال سے گریز کریں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ خواتین اور بچوں کی صحت و بہبود کو خصوصی اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام اسی وژن کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور کم عمر بچوں کو بہتر غذائیت، صحت سے متعلق آگاہی اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی نے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین تک ان کی زندگی کے نہایت اہم مرحلے پر پہنچنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف مالی معاونت کافی نہیں ہوتی بلکہ ماؤں کو درست معلومات، مؤثر رہنمائی، مشاورت اور معیاری صحت و غذائیت کی سہولیات بھی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ صحت مند مائیں اور صحت مند نسل پروان چڑھ سکے۔

تقریب کے اختتام پر ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر عصمت نواز نے یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام، وزارتِ قومی صحت اور دیگر شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی آئی ایس پی اپنے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا کہ ہر ماں اور ہر بچے کو بہتر صحت، مناسب غذائیت اور ضروری سہولیات میسر آ سکیں تاکہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos