728 x 90

وزیراعظم کی مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت

وزیراعظم کی مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو مون سون کے نتیجے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر دم تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ آج اسلام آباد میں جاری مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو مون سون کے نتیجے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر دم تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

وہ آج اسلام آباد میں جاری مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔

وزیراعظم نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور مون سون کی صورتحال و متوقع بارشوں کی اطلاعات بروقت پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کو بھی ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیادوں پر فلڈ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں اور صورتحال کے جائزے کے بعد لائحہ عمل طے کریں۔

شہبازشریف نے شمالی علاقہ جات میں گلوف و طوفانی ریلوں کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کے نظام کو بھرپور طریقے سے فعال رکھنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں حصہ معمولی ہے مگر موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات پاکستان کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کے پیش نظر حکومت طویل، وسط اور قلیل مدتی اقدامات پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو تمام اداروں کے تعاون سے یہ یقینی بنا نے کی ہدایت کی ہے کہ مون سون کے جاری اسپیل میں جانی و مالی نقصان کو روکا جائے۔

اجلاس کو این ڈی ایم اے، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے حالیہ مون سون اور اس کے نتیجے میں نقصانات، ریسکیو و بحالی کے اقدامات پر بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے ملک کے شمالی علاقوں میں مون سون سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال اور سندھ و بلوچستان میں جاری گرمی کی شدید لہر کے حوالے سے صوبائی حکومتوں و اداروں کو تمام تر معاونت و وسائل فراہم کر رہا ہے۔

مزید کہا گیا کہ آئندہ دو روز میں آزاد کشمیر و گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں مون سون بارشوں کے ایک بڑے اسپیل کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون کا ایک بڑا سپیل بھی متوقع ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت پر قائم کردہ فلڈ کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے جس میں تمام متعلقہ ادارے موجودہ صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ریسکیو و ریلیف اور بحالی کے اقدامات کا جامع لائحہ عمل مرتب کرکے اس کا نفاذ یقینی بنا رہے ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ موجودہ مون سون اسیپل مین اب تک 110 اموات جبکہ 360 لوگ زخمی ہوئے، 796 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 376 مویشی ہلاک ہوئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر جاری ایل- نینو (El-Nino) کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود گلیشیئرز کے پگھلنے کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے آئندہ ایک ماہ میں گلوف و سیلابی ریلوں کا خطرہ لاحق ہے۔ ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرکے تمام تر حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وسطی پنجاب بشمول لاہور میں شہری سیلابی صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے گئے جبکہ کچھ علاقوں میں برساتی نالوں میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے زرعی زمین زیر آب ہے جس سے نکاسی کا کام جاری ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھی سیلابی ریلوں کی صورتحال اس وقت قابو میں ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 106 مقامات پر سڑکوں کی بندش کو بروقت اقدامات سے بحال کر دیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی و ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر فعال ہے، کسی بھی موبائل فون سے ہنگامی صورتحال میں مدد کی کال پر فوری طور پر ریسکیو 1122 فعال ہوکر ریسکیو و ریلیف اقدامات کیلئے موقع پر پہنچتی ہے۔

مون سون کے دوران برساتی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ملک کے مختلف مقامات پر 700 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاکہ خشک موسم کے دوران وہ پانی زراعت کے لئے استعمال کیا جاسکے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos