وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پاکستان کے حالیہ رعایتی بانڈز سے متعلق غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بانڈز وقت کی قدرِ زر کے اصول پر مبنی ایک معیاری مالیاتی ذریعہ ہیں۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے ذرائع ابلاغ کے اس تاثر کو مسترد کیا
وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پاکستان کے حالیہ رعایتی بانڈز سے متعلق غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بانڈز وقت کی قدرِ زر کے اصول پر مبنی ایک معیاری مالیاتی ذریعہ ہیں۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے ذرائع ابلاغ کے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسی ارب روپے کے بانڈز پندرہ برس میں پانچ سو بارہ ارب روپے کی واجب الادا رقم بن جائیں گے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ رعایتی قیمت پر جاری کئے جانے والے اور مدت پوری ہونے پر مکمل ادائیگی والے یہ بانڈز حکومت کو سالانہ سود کی ادائیگی یا بار بار مارکیٹ سے قرض لینے کے بغیر طویل مدتی فنڈنگ حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
مشیرِ خزانہ نے کہا کہ یہ بانڈز پاکستان کے مجموعی قرضے کا صرف پانچ فیصد ہیں اور عموما پنشن فنڈز اور انشورنس کمپنیوں جیسے طویل مدتی سرمایہ کار انہیں خریدتے ہیں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *