728 x 90

28 ایکڑ اوقاف اراضی کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ درج، شہری سے 50 لاکھ روپے لینے کا الزام

28 ایکڑ اوقاف اراضی کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ درج، شہری سے 50 لاکھ روپے لینے کا الزام

شہری سے محکمہ مسلم اوقاف کی 28 ایکڑ لیز شدہ زرعی اراضی فروخت کرنے کے عوض مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے وصول کرنے والے کامران شبیر کے خلاف تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ کے مدعی حافظ محمد حماد نے دیگر افراد کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے

شہری سے محکمہ مسلم اوقاف کی 28 ایکڑ لیز شدہ زرعی اراضی فروخت کرنے کے عوض مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے وصول کرنے والے کامران شبیر کے خلاف تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

مقدمہ کے مدعی حافظ محمد حماد نے دیگر افراد کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کامران شبیر نے 2022 میں چک نمبر 459 ج ب کوٹ لکھنانہ میں واقع محکمہ مسلم اوقاف کی لیز شدہ 28 ایکڑ زرعی اراضی کا سودا ان کے ساتھ 62 لاکھ 50 ہزار روپے میں طے کیا اور اس حوالے سے اشٹامپ پیپر پر معاہدہ بھی تحریر کیا گیا۔

حافظ محمد حماد کے مطابق معاہدے کے تحت طے شدہ رقم مختلف اوقات میں چیک کے ذریعے ادا کی جانی تھی جبکہ مکمل رقم کی ادائیگی کے بعد زمین ان کے نام منتقل کی جانی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب تک 50 لاکھ روپے ادا کر چکے تھے کہ انہیں معلوم ہوا محکمہ مسلم اوقاف کی جانب سے مذکورہ اراضی کی نیلامی کا اشتہار جاری کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے بعد جب انہوں نے کامران شبیر سے اپنی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو مبینہ طور پر اس نے بقیہ ساڑھے 12 لاکھ روپے کی رقم کی وصولی کا دعویٰ عدالت میں دائر کر دیا۔

پریس کانفرنس میں کامران احمد اشرف نامی شہری نے بھی الزام عائد کیا کہ کامران شبیر نے اسی اراضی میں سے 14 ایکڑ رقبے کا سودا اس کے ساتھ 45 لاکھ روپے میں طے کیا تھا اور 10 لاکھ روپے بیعانہ وصول کرکے اشٹامپ پیپر پر معاہدہ کیا گیا تھا۔

اس موقع پر موجود عبدالغفار نامی شہری نے بھی کامران شبیر پر سرکاری ملازمت دلوانے کے عوض اڑھائی لاکھ روپے وصول کرنے کا الزام عائد کیا۔ عبدالغفار کے مطابق اس معاملے کا مقدمہ بھی تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درج ہے۔

حافظ محمد حماد اور دیگر متاثرہ افراد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر وصول کی گئی رقوم کی واپسی یقینی بنائی جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

واضح رہے کہ خبر میں عائد کیے گئے الزامات متعلقہ افراد کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ مقدمے کے اندراج سے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos