کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اہم فیصلے
اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس آج وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مختلف وزارتوں کے لیے 8 ارب روپے سے زائد کی…

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس آج وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مختلف وزارتوں کے لیے 8 ارب روپے سے زائد کی منظوری دی گئی۔
اہم مالی منظوریوں کی تفصیلات
- وزارت دفاع کے لیے 1.945 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری۔
- خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کے لیے 5.276 ملین روپے۔
- وزارت اطلاعات و نشریات کے لیے 2.583 ارب روپے۔
- وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 1.5 ارب روپے۔
- وزارت داخلہ کے لیے 650.357 ملین روپے۔
سیف سٹی پروجیکٹ اسلام آباد کے واجبات کی ادائیگی
وزارت داخلہ کی درخواست پر، کمیٹی نے سیف سٹی پروجیکٹ اسلام آباد کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے ہواوے ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ کو 1.72 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔ یہ ادائیگی پروجیکٹ کے معاہدے کی کل لاگت کے بقیہ 5 فیصد کے تصفیے کے لیے کی جائے گی۔
وزیر اعظم ریلیف پیکیج کے لیے فنڈز کی منظوری
ای سی سی نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ذریعے وزیر اعظم ریلیف پیکیج کو جاری رکھنے کے لیے 1.679 ارب روپے کی منظوری دی، جو موجودہ مالی سال میں عوام کو سہولت فراہم کرے گا۔
پولیول کی درآمد پر پابندی
کمیٹی نے پولیول کی ایچ سی ایف سی-141بی اور ایچ سی ایف سی-142بی کے ساتھ درآمد پر رواں ماہ کے اختتام سے پابندی عائد کرنے کی منظوری دی۔
گوداموں کو صنعت قرار دینے کی تجویز منظور
اجلاس میں گوداموں کو صنعت قرار دینے کی تجویز کو بھی ای سی سی نے منظور کر لیا۔
یہ فیصلے قومی معیشت کو مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔


