جھنگ میں اکتوبر کے دوران ریسکیو 1122 نے 7,641 ایمرجنسیز پر ریسپانس دیتے ہوئے 7,661 متاثرین کو ریسکیو کیا، 144 افراد جانبر نہ ہو سکے، سلطان محمود
جھنگ: پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 جھنگ نے گزشتہ ماہ اکتوبر کے دوران مجموعی طور پر 7,641 ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس دیتے ہوئے 7,661 متاثرین کو ریسکیو کرکے طبی امداد فراہم کی یا ہسپتال…

جھنگ: پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 جھنگ نے گزشتہ ماہ اکتوبر کے دوران مجموعی طور پر 7,641 ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس دیتے ہوئے 7,661 متاثرین کو ریسکیو کرکے طبی امداد فراہم کی یا ہسپتال منتقل کیا، تاہم مختلف حادثات اور ہنگامی واقعات میں 144 افراد جانبر نہ ہو سکے۔ شہری علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کا اوسط ریسپانس ٹائم 6.12 منٹ رہا۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سلطان محمود نے ریسکیو 1122 کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر کے دوران ریسکیو کنٹرول روم میں مجموعی طور پر 33,079 فون کالز موصول ہوئیں، جن میں سے 7,641 کالز ایمرجنسی نوعیت کی تھیں اور ان پر ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کی۔ ایمرجنسیز میں 1,039 ٹریفک حادثات، 5,794 میڈیکل ایمرجنسیز، آتشزدگی کے 24، جرائم و تشدد کے 117، ڈوبنے کے 2، عمارتیں گرنے کے 4، بلندی سے گرنے کے 451 اور دیگر نوعیت کے 210 واقعات شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے مجموعی طور پر 7,661 متاثرین کو ریسکیو کیا، جن میں سے 4,344 افراد کو جائے وقوعہ پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ 3,173 مریضوں کو مزید علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بدقسمتی سے 144 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اس دوران کنٹرول روم کو 20,027 غیر متعلقہ، غیر ضروری اور ڈراپ کالز بھی موصول ہوئیں۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سلطان محمود نے کہا کہ ریسکیو 1122 کا بنیادی مشن انسانی جانوں کا تحفظ اور عوام کو بلا تفریق بروقت ایمرجنسی سروسز فراہم کرنا ہے۔ ریسکیو اہلکار دن رات اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، جبکہ ہر ہنگامی صورتحال میں کم سے کم وقت میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر متاثرین کو بہترین طبی امداد اور پیشہ ورانہ ریسکیو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ایمرجنسی ہیلپ لائن 1122 کا استعمال صرف حقیقی ہنگامی صورتحال میں کریں اور غیر ضروری یا جھوٹی کالز سے گریز کریں تاکہ ریسکیو ٹیمیں کسی مستحق اور ضرورت مند شخص کی مدد کے لیے بروقت پہنچ سکیں اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔


