728 x 90

پییکا قانون کے خلاف آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے اتحاد تشکیل

پییکا قانون کے خلاف آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے اتحاد تشکیل

اسلام آباد، 30 جنوری 2025 (پریس ریلیز) – ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی جانب سے آج منعقدہ مشاورتی اجلاس میں شرکاء نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ترمیمی ایکٹ 2025 (PECA) کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون نہ صرف صحافت بلکہ عام سوشل

اسلام آباد، 30 جنوری 2025 (پریس ریلیز) – ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی جانب سے آج منعقدہ مشاورتی اجلاس میں شرکاء نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ترمیمی ایکٹ 2025 (PECA) کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون نہ صرف صحافت بلکہ عام سوشل میڈیا صارفین کے لیے بھی آزادی اظہار کو مزید محدود کر دے گا۔

اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA) کے صدر میاں رئوف عطا، سینئر وکیل عابد ساقی، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضل بٹ، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کے صدر طارق علی ورک، جنرل سیکرٹری آصف بشیر چوہدری، WAJAH کی بانی فوزیہ کلسوم رانا، اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے شرکت کی۔ معروف صحافی حامد میر اور مطیع اللہ جان، HRCP کے کونسل ممبران ناصر زیدی، فرحت اللہ بابر، ندا علی، اور سابق چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن، افراسیاب خٹک نے بھی اس قانون کے اثرات پر اظہار خیال کیا۔

اجلاس کی نظامت HRCP کی شریک چیئرپرسن منیزے جہانگیر نے کی، جبکہ Bolo Bhi کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی، AGHS کی نمائندہ انس وقی اور وکیل صلاح الدین احمد نے قانون پر تفصیلی بریفنگ دی۔

شرکاء نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس قانون کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں نے اب اسے منظور کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ جماعتیں اپنی پوزیشن واضح کریں اور آزادی اظہار پر سمجھوتہ کرنے پر جوابدہ ہوں۔

اگرچہ شرکاء نے تسلیم کیا کہ جھوٹی خبروں (Fake News) کے کئی خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے سدباب کے لیے بنائے گئے قوانین کو آزادی اظہار کے آئینی حق کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ مبہم اور وسیع تعریفات کے ذریعے اختلاف رائے کو دبانے کے خدشات بھی سامنے آئے۔ مزید برآں، اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو شکایت درج کرانے کا اختیار دینا اس کے غلط استعمال کا سبب بن سکتا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے ایک وسیع اتحاد تشکیل دیا جائے گا، جس میں PFUJ، SCBA، HRCP، ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان، فریڈم نیٹ ورک، IRADA، WAJAH، Bolo Bhi اور اینکرز ایسوسی ایشن آف پاکستان شامل ہوں گے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos