728 x 90

مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر تبصرہ نہیں کرتے اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی کوئی خبر نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جھنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ تمام

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر تبصرہ نہیں کرتے اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی کوئی خبر نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جھنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ تمام مکاتبِ فکر کی جماعتیں 22 دسمبر کو کراچی میں جمع ہو رہی ہیں جہاں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل پر سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ تنقید کی سیاست کی ہے، گالی کی نہیں۔ یہ فیصلہ نئی نسل نے کرنا ہے کہ گالی دینے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا نظریات کی سیاست کرنے والوں کے ساتھ۔

انہوں نے واضح کیا کہ نہ انہوں نے عمران خان کو وزیر اعظم بنایا تھا اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کو بنائیں گے، وزیر اعظم کا فیصلہ ہمیشہ عوام نے کرنا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اپنی اتھارٹی مضبوط کرنے کے لیے دھاندلیاں کرنا چاہتی ہے۔ اسمبلیاں بنانا، قانون سازی کرنا اور آئین میں تبدیلیاں کرنا منتخب نمائندوں کا کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نظریاتی تقابل پر یقین رکھتے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ کا کوئی نظریاتی نظام نہیں ہوتا۔ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ اپنی اتھارٹی کی جنگ لڑتی ہے، اب انہیں بہت اختیار مل چکا ہے، مزید آگے نہیں جانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سیاسی قربانی ہمیشہ نظریات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ سیاست میں کوئی کسی کی بیعت نہیں کرتا بلکہ ہر پارٹی کے کارکن اپنے لیڈرز کے نظریات پر چلتے ہیں۔

انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بلدیاتی نظام عوامی مفاد میں بنائیں۔ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس سے قبل یہ سوچنا ہوگا کہ ملک کی موجودہ معروضی صورتحال صوبوں کی تقسیم کے لیے سازگار ہے یا نہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اعتدال کے ساتھ سیاست کی ہے اور گالی کی سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے پیر ذوالفقار نقشبندی کی وفات پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی اور مرحوم کے لیے دعا کی۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos