728 x 90

سائبر جرائم کی روک تھام کا عالمی دن آج منایا گیا

سائبر جرائم کی روک تھام کا عالمی دن آج منایا گیا

سائبر جرائم کی روک تھام کا عالمی دن آج منایا گیا۔ دن کا مقصد سائبر جرائم کے خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔2023 میں دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی۔ ڈیجیٹل رابطے نے انسانی زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں پیدا کیں اور بے شمار فوائد فراہم کیے،

سائبر جرائم کی روک تھام کا عالمی دن آج منایا گیا۔

دن کا مقصد سائبر جرائم کے خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔2023 میں دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی۔ ڈیجیٹل رابطے نے انسانی زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں پیدا کیں اور بے شمار فوائد فراہم کیے، تاہم ڈیجیٹل دنیا اپنے ساتھ سنگین خطرات بھی لائی ہے۔

سائبر مجرم میل ویئر، رینسم ویئر اور ہیکنگ کے ذریعے آن لائن نظاموں کا استحصال کرتے ہیں تاکہ رقم، ڈیٹا اور دیگر قیمتی معلومات چُرا سکیں۔ وہ معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کو دیگر جرائم کی سہولت کاری، متاثرین کی بھرتی، دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

یہ خطرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ سرحد پار منظم جرائم پیشہ گروہوں نے فراڈ سینٹرز قائم کر رکھے ہیں، جہاں سے اربوں ڈالر کے مجرمانہ کاروبار چلائے جا رہے ہیں اور آن لائن محبت کے جھانسے، سرمایہ کاری کے فراڈ اور دیگر اسکیموں کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ اسی دوران یہ گروہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو لبھا کر انہیں ان فراڈ مراکز میں کام کرنے کے لیے انسانی اسمگلنگ کا شکار بھی بنا رہے ہیں۔

آن لائن خطرات کے خلاف بہترین دفاع روک تھام ہے، اور عالمی برادری کو فوری طور پر آن لائن فراڈ، بھرتی اور انسانی اسمگلنگ کے خطرات کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ سائبر جرائم اور آن لائن دھوکہ دہی سرحدوں سے ماورا خطرات ہیں، اس لیے بین الاقوامی تعاون کو بھی مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ یہ جرائم ترقی یافتہ ممالک میں فراڈ کے متاثرین کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ غریب ترین ممالک میں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو استحصال کا شکار بنایا جاتا ہے۔ ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام، تدارک اور عوام کے تحفظ کے لیے رکن ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کا دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) سائبر جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کے ردِعمل کی قیادت کرتا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کو تربیت اور معاونت فراہم کرتا ہے۔ سرحد پار منظم جرائم اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد اور فوجداری انصاف کے نظام کی معاونت میں اپنی خصوصی مہارت کی بنیاد پر، UNODC تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے تاکہ روک تھام کو مضبوط بنایا جا سکے، قوانین میں اصلاحات کی جائیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور بین الاقوامی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔

بڑھتے ہوئے خطرے کے لیے نیا کنونشن

پانچ سالہ مذاکرات کے بعد دسمبر 2024 میں جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کیا جانے والا سائبر کرائم کے خلاف کنونشن آن لائن کیے جانے والے جرائم کی تحقیقات اور ان پر قانونی کارروائی کے لیے ایک عالمی فریم ورک قائم کرتا ہے، جن میں رینسم ویئر، مالیاتی فراڈ اور رضامندی کے بغیر ذاتی و نجی تصاویر کی تشہیر جیسے جرائم شامل ہیں۔

یہ کنونشن 25 اکتوبر 2025 کو ویت نام کے شہر ہنوئی میں دستخط کے لیے کھولا گیا، جہاں 72 ممالک نے اس پر دستخط کیے۔ چالیسویں ریاست کی جانب سے توثیقی دستاویز جمع کرانے کے 90 دن بعد یہ نافذ العمل ہو جائے گا۔

نیا معاہدہ سائبر پر منحصر اور سائبر کے ذریعے کیے جانے والے متعدد جرائم کو قابلِ سزا قرار دیتا ہے، سرحدوں کے پار الیکٹرانک شواہد کے تبادلے کو آسان بناتا ہے اور ریاستوں کے درمیان 24 گھنٹے فعال تعاون کا نیٹ ورک قائم کرتا ہے۔

یہ معاہدہ تاریخ میں پہلی بار رضامندی کے بغیر نجی تصاویر کی اشاعت کو بین الاقوامی جرم تسلیم کرتا ہے، جو آن لائن زیادتی کے متاثرین کے لیے ایک بڑی اور اہم کامیابی ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos