جماعت اسلامی پاکستان کے ضلعی امیر مہر فرید مگھیانہ نے کہا ہے کہ مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے عوام مزید مالی بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں واسا کی جانب سے بھاری بھرکم بلوں کا اجراء عوام
جماعت اسلامی پاکستان کے ضلعی امیر مہر فرید مگھیانہ نے کہا ہے کہ مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے عوام مزید مالی بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں واسا کی جانب سے بھاری بھرکم بلوں کا اجراء عوام کے ساتھ زیادتی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز پریس کلب جھنگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عبدالجبار خان، حاکم خان سیال، طارق فاروق صابری، حافظ محمد اشرف جھگڑ، ساجد عبداللہ اور جماعت اسلامی کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ مہر فرید مگھیانہ نے کہا کہ حکومت کو صرف عوام سے قربانی لینے کے بجائے خود بھی قربانی دینا سیکھنا ہوگا۔
ضلعی امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پنجاب نے واسا کا ٹیرف تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں یکساں نافذ کر رکھا ہے، جبکہ جھنگ جیسے چھوٹے شہروں میں لوگوں کی آمدن اور معیار زندگی بڑے شہروں کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چھوٹے شہروں کے لیے الگ اور رعایتی ٹیرف مقرر کیا جائے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جھنگ میں واسا کی جانب سے جاری کیے گئے کئی بل غلط سروے رپورٹس کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔ گھروں اور دکانوں کا رقبہ اصل سے زیادہ ظاہر کرنے کی وجہ سے شہریوں کو اضافی بل موصول ہو رہے ہیں، جن کی درستگی کے لیے لوگ واسا دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واسا فوری طور پر درست سروے کر کے شہریوں کو درست بل جاری کرے۔
مہر فرید مگھیانہ نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات پہلے ہی انتہائی خراب ہیں، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کسانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے کیونکہ اس وقت گندم کی کٹائی جاری ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس لیا جائے تاکہ عوام اور کسانوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *