728 x 90

واسا جھنگ کی بیکن ہاؤس اسکول میں جامع آگاہی مہم، طلبہ کو مین ہول سیفٹی، صاف پانی اور ماحولیاتی تحفظ پر تربیت دی گئی

واسا جھنگ کی بیکن ہاؤس اسکول میں جامع آگاہی مہم، طلبہ کو مین ہول سیفٹی، صاف پانی اور ماحولیاتی تحفظ پر تربیت دی گئی

واسا جھنگ (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی) کی جانب سے بیکن ہاؤس اسکول جھنگ میں ایک جامع تعلیمی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ میں صاف پانی، نکاسی آب، مین ہول سیفٹی اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں شعور بیدار کرنا تھا۔ اس پروگرام میں واسا کے ماہرین نے طلبہ کو شہری

واسا جھنگ (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی) کی جانب سے بیکن ہاؤس اسکول جھنگ میں ایک جامع تعلیمی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ میں صاف پانی، نکاسی آب، مین ہول سیفٹی اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں شعور بیدار کرنا تھا۔ اس پروگرام میں واسا کے ماہرین نے طلبہ کو شہری صفائی کے نظام، زیرِ زمین پانی کی حفاظت اور روزمرہ زندگی میں حفاظتی تدابیر اپنانے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اس سرگرمی کو نئی نسل میں ذمہ دار شہری شعور اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

آگاہی سیشن کے دوران طلبہ کو بتایا گیا کہ واسا کا بنیادی مقصد شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم کی بہتری، بارش کے پانی کی بروقت نکاسی اور صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ نکاسی آب کا مؤثر نظام کسی بھی شہر کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ اگر نالیاں اور سیوریج لائنیں بند ہو جائیں تو بارش کے دوران پانی جمع ہونے، سڑکوں کی تباہی اور بیماریوں کے پھیلاؤ جیسے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو یہ بھی بتایا کہ شہریوں کی معمولی سی غفلت، جیسے نالیوں میں کچرا پھینکنا، پورے نکاسی آب کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

اس موقع پر واسا جھنگ کی انوائرمنٹل سائنسز کی ہیڈ محترمہ اقصیٰ، جی آئی ایس اسپیشلسٹ محمد وقاص اختر اور پبلک ریلیشن آفیسر محمد عرصم حق نے طلبہ کو عملی مثالوں کے ذریعے بتایا کہ کھلے مین ہولز شہریوں خصوصاً بچوں کے لیے کس قدر خطرناک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلے مین ہولز حادثات کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ بارش کے موسم میں جان لیوا صورت اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ کسی بھی کھلے مین ہول کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔ ماہرین نے حفاظتی آلات، مین ہول کورز اور جدید نگرانی کے نظام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

ماہرین نے زیرِ زمین پانی کی آلودگی پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیپٹک ٹینک کے رساؤ، سیوریج لائنوں کی خرابی اور صنعتی فضلے کے بے احتیاطی سے اخراج کے باعث زیرِ زمین پانی آلودہ ہو جاتا ہے، جو ہیضہ، اسہال، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کے ذخائر کو آلودہ ہونے سے بچائیں اور نکاسی آب کے نظام میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

پریزینٹیشن میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی، جہاں طلبہ کو بتایا گیا کہ واسا جی آئی ایس میپنگ، جدید مشینری اور مانیٹرنگ سسٹمز کے ذریعے شہر کے زیرِ زمین پائپ لائن نیٹ ورک اور نکاسی آب کے ڈھانچے کی نگرانی کرتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ ان جدید طریقوں سے مسائل کی فوری نشاندہی اور بروقت حل ممکن ہوتا ہے، جس سے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس موقع پر طلبہ کو ترغیب دی گئی کہ وہ پانی کے ضیاع سے بچیں، اپنے گھروں اور اسکولوں میں صفائی کو فروغ دیں اور ماحول دوست رویے اپنائیں۔

واساحکام نے کہا کہ اس قسم کی تعلیمی سرگرمیوں کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں میں عملی شعور پیدا کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ماحولیاتی تحفظ اور شہری صفائی کے سفیر بن سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر نئی نسل کو صفائی، پانی کے تحفظ اور شہری ذمہ داریوں کا شعور دیا جائے تو نہ صرف بیماریوں میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ایک محفوظ، صاف ستھرا اور پائیدار شہری ماحول بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر بیکن ہاؤس اسکول کے طلبہ نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صفائی، پانی کے تحفظ اور محفوظ ماحول کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ واسا جھنگ کے نمائندوں نے بھی اعلان کیا کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی آگاہی مہمات جاری رکھی جائیں گی تاکہ شہریوں میں ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا جا سکے اور جھنگ کو ایک صحت مند، محفوظ اور صاف شہر بنایا جا سکے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos