پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے کثیرالجہتی آپریشنز میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو مکمل شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے قوم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے دشمن کے
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے کثیرالجہتی آپریشنز میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو مکمل شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے قوم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
وہ آج راولپنڈی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں پاک بحریہ کے ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز ریئر ایڈمرل شفاعت علی اور پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف پراجیکٹس ایئر وائس مارشل طارق غازی بھی موجود تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے معرکۂ حق کے دس اسٹریٹجک نتائج تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے کا بھارتی بیانیہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اب بخوبی سمجھ چکی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مرتکب نہیں بلکہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم نتیجہ خطے میں پاکستان کے ایک ذمہ دار اور امن کے ضامن ملک کے طور پر ابھرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جھوٹ اور من گھڑت ڈرامے کی بنیاد پر خطرناک اشتعال انگیزی کا راستہ اپنایا، جبکہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج نے بالغ نظری اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکۂ حق کا تیسرا اسٹریٹجک نتیجہ بھارتی فوجی قیادت کی سیاست زدگی اور بھارتی سیاسی قیادت کی عسکریت پسندی کی صورت میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ چوتھا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کے اپنے داخلی مسائل کو بیرونی رنگ دینے اور دہشت گردی کو بطور ریاستی ہتھیار استعمال کرنے کے عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جو کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس حوالے سے متعدد قراردادیں منظور ہوچکی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پانچواں نتیجہ بھارتی میڈیا اور اس کے جھوٹے پروپیگنڈے کا بے نقاب ہونا تھا، جبکہ چھٹے نتیجے کے طور پر معرکۂ حق نے جنگ کے انداز کو تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید جنگ میں ملٹی ڈومین آپریشنز، معلوماتی جنگ، پراکسیز اور سائبر میدان اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور پاکستان بری، بحری، فضائی، معلوماتی اور سائبر ہر محاذ پر مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساتویں نتیجے کے طور پر پاکستان نے روایتی اور غیر روایتی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت اور استقامت ثابت کی۔ آٹھواں اہم نتیجہ دفاعی توازن کی واضح بحالی اور یہ حقیقت ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نویں نتیجے کے طور پر پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم جغرافیائی اور ذمہ دار مڈل پاور کے طور پر تسلیم کیا گیا، جبکہ آخری اور سب سے اہم نتیجہ عوام، حکومت اور مسلح افواج کے درمیان غیر متزلزل اتحاد ہے، جسے “بنیان المرصوص ایفیکٹ” کا نام دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت ملوث ہے اور افغانستان کی سرزمین کو آپریشنل بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلح افواج قوم کی حمایت سے ہر قیمت پر پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کریں گی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ “غضبُ للحق” آپریشن جاری ہے، تاہم اس میں عارضی وقفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف قومی ردعمل کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے واضح مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر خوارج دہشت گردوں کو پناہ دینے سے گریز کرے۔
سیاسی امور سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ان کا اپنا اختیار ہے اور پاکستان کی مسلح افواج ملکی سیاست میں کوئی فریق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افواجِ پاکستان کسی مخصوص مسلک، زبان یا سیاسی نظریے کی نمائندگی نہیں کرتیں۔
پریس کانفرنس کے دوران پاک بحریہ کے ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف نے کہا کہ پاکستان نیوی کی مسلسل نگرانی نے بھارت کو پاکستان کے سمندری معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے سے روکے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستان نیوی اور پاک فضائیہ بھارتی بحری جہاز “وکرانت” کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں، تاہم وہ اپنے محفوظ مقام سے باہر آنے کی ہمت نہ کرسکا۔
اس موقع پر پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے آٹھ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں چار رافیل، ایک سخوئی Su-30، ایک میراج 2000، ایک مگ-29 اور ایک مہنگا ملٹی رول بغیر پائلٹ نظام شامل تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد بھارتی طیاروں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی ناقابلِ استعمال ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے سولہ فضائی اڈوں، اہم عسکری تنصیبات، براہموس میزائل ذخیرہ گاہوں، اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز بشمول برنالہ مرکز، اور دو S-400 بیٹریوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *