وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی زیتون کی پیداواری صلاحیت کو معاشی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے مقصد سے پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا باقاعدہ اجرا کر دیا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان چند سالوں میں خوردنی تیل کی پیداوار میں خودکفیل ہو سکتا ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی زیتون کی پیداواری صلاحیت کو معاشی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے مقصد سے پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا باقاعدہ اجرا کر دیا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان چند سالوں میں خوردنی تیل کی پیداوار میں خودکفیل ہو سکتا ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ زرعی شعبے اور ملکی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔
پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے۔ اگر ملکی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار بڑھا کر ایک سال میں 40 کروڑ ڈالر کی درآمدی لاگت بچا لی جائے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ چند برسوں میں خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف زیتون کے پودے لگانے پر توجہ دینا کافی نہیں بلکہ زیتون کے تیل کی پیداوار، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبے کو ایک مضبوط زرعی صنعت میں تبدیل کیا جا سکے۔
شہباز شریف نے زیتون کی کاشت اور پیداوار کے فروغ میں تعاون پر حکومت اٹلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی حکومت کے خرچ پر 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیج سکتا ہے تاکہ وہ زیتون کی کاشت، پیداوار، پراسیسنگ اور مارکیٹنگ کے مختلف پہلوؤں میں جدید تربیت اور عملی تجربہ حاصل کریں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں اٹلی کے سفیر اوگو چیئرلاتانی نے کہا کہ اٹلی اور پاکستان کے درمیان سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط دیرینہ شراکت داری موجود ہے، جو اب زراعت، سائنس، تعلیم، تجارت اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں تک پھیل چکی ہے۔
اٹلی کے سفیر نے کہا کہ نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی پاکستان اور اٹلی کے درمیان کئی سالہ تعاون کا نتیجہ ہے۔ اس تعاون میں 100 ملین ڈالر کے پاکستان اٹلی ڈیبٹ سویپ پروگرام نے بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے تحت ملک بھر میں زیتون کے باغات کے قیام میں مدد فراہم کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب 70 لاکھ سے زائد زیتون کے پودے موجود ہیں، جبکہ اٹلی کے اولیو کلچر پراجیکٹ کے تحت لیبارٹریوں، نرسریوں اور کاروباری گروپس کے قیام کے علاوہ 700 سے زائد متعلقہ افراد کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
اٹلی کے سفیر کے مطابق اٹلی پاکستان میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی تعاون کر رہا ہے، جس کے تحت 2 کروڑ یورو کے استعداد کار بڑھانے کے پروگرام میں زیادہ قدر والی زراعت، خصوصاً زیتون کی کاشت اور پیداوار پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی پالیسی پاکستان کے زیتون کے شعبے کو ایک فعال اور منافع بخش زرعی صنعت میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی، جس سے کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان اور اٹلی کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *