پاکستان بڑی طاقتوں کے مقابلے میں فریقوں کا انتخاب کیے بغیر اپنے مفادات پر توجہ مرکوز کررہا ہے، نگران وزیراعظم
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان بڑی قوتوں کے درمیان مقابلے میں کسی مخصوص فریق کا ساتھ دینے کی بجائے اپنے مفادات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کو…

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان بڑی قوتوں کے درمیان مقابلے میں کسی مخصوص فریق کا ساتھ دینے کی بجائے اپنے مفادات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مغرب اور روس اور چین کے درمیان مقابلے میں اپنے آپ کو الجھائے بغیر متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے معاملے پر پاکستان نے خود کو غیر جانبدار رکھا ہوا ہے اور چین کو اپنا دیرینہ دوست اور تزویراتی شراکت دار سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت میں پاکستان کسی مخصوص کیمپ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پہلے سوویت یونین کے خلاف اور پھر نائن الیون کے بعد مغرب کا ساتھ دینے پر پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان کو مغرب کی جانب سے غیر منصفانہ رویے کا سامنا رہا۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے ان الزامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا کہ پاکستان یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یوکرین کو براہِ راست یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے ہتھیاروں کی فروخت کی کوئی پیشکش نہیں کی۔


