728 x 90

پنجاب میں اسموگ بحران: ہوا ہمیں کیا بتا رہی ہے؟

پنجاب میں اسموگ بحران: ہوا ہمیں کیا بتا رہی ہے؟

”یہ دن میرے لئے کچھ اچھا نہیں تھا، میرے رکشے میں سوار8 سالہ جواد کو شدید کھانسی ہورہی تھی اور مجھے فوری طور پر اسے قریبی ہسپتال لے کرجانا پڑا، اس کے گھر والوں کو فون کیا اور باقی بچوں کو اسکول تو چھوڑ دیا لیکن میرے دل میں جواد کا خیال بار بار آرہا

”یہ دن میرے لئے کچھ اچھا نہیں تھا، میرے رکشے میں سوار8 سالہ جواد کو شدید کھانسی ہورہی تھی اور مجھے فوری طور پر اسے قریبی ہسپتال لے کرجانا پڑا، اس کے گھر والوں کو فون کیا اور باقی بچوں کو اسکول تو چھوڑ دیا لیکن میرے دل میں جواد کا خیال بار بار آرہا تھا کہ اس بچے کو کیا ہوا؟ لہذا رکشہ موڑ کر میں اس کے گھر گیا تو پتہ چلا کہ اسے شدید گھانسی کی وجہ سے ڈاکٹرز نے دس دن آرام کامشورہ دیا ہے اور بتایا کہ سموگ کی وجہ سے آب وہوا مناسب نہیں ہے، وہ اب کچھ دنوں کے لئے اسکول نہیں جاپائے گا لیکن شکر ہے کہ اگلے دن سموگ کی وجہ سے حکومت کی جانب سے اسکولوں میں چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا”- بلال گزشتہ دس سال سے جھنگ کے مختلف محلوں کے بچوں کو اسکول چھوڑنے اور لینے کا کام کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ دو سےتین سال سے ان دنوں میں جھنگ کی فضا عجییب سی ہوجاتی ہے ”ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی گیس چیمبر میں رہ رہے ہیں”۔

ان دنوں میں جھنگ میں یہ زہریلی ہوا اگر چہ بہت خطرناک نہیں لیکن اتنی اچھی بھی نہیں بہت سےشہری ان دنوں میں طبی مسائل کا شکار ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے دل لاہور کا حال تو بہت ہی برا ہے ۔لاہور کے ساتھ ساتھ ملتان، فیصل آباد اور راولبنڈی کے حالات بھی بہت برے گزرے ہیں۔

 اسموگ کیا ہے

اسموگ ہوا کی آلودگی کی ایک خاص قسم ہے۔ یہ ہوا میں موجود نقصان دہ آلودگیوں کا مجموعہ ہے جو اکثر زمین کے قریب زردی مائل بھورے دھند کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یہ آلودگیاں قدرتی اور انسانی سرگرمیوں کے ذریعے فضا میں شامل ہوتی ہیں۔ تقریباً پانچ دہائیاں پہلے اسے دھواں (Smoke) اور دھند (Fog) کے امتزاج کے طور پر بیان کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کا نام ‘اسموگ(Smog)’ پڑا۔

پنجاب کی صورت حال کیا رہی

پنجاب میں یہ دھواں صرف ہوا کو آلودہ نہیں کر رہا، یہ لوگوں کی صحت، روزگار اور مستقبل چھین رہا ہے۔ ہر سال، لاکھوں لوگ اس دم گھٹنے والی اسموگ کا سامنا کرتے ہیں، جو اسکولوں کی بندش، کام کے دنوں میں کمی اور اسپتالوں کے دوروں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب کے رواں ماہ آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق 19 لاکھ سے زائد افراد ہسپتالوں میں علاج کے  لئے لائے گئے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی ۔ عالمی اداروں نے بھی پنجاب میں اس صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا ہے ۔

یونیسف کے مطابق پنجاب میں اسموگ کے باعث 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے زہریلی ہوا کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاہور اور ملتان جیسے شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح عالمی ادارہ صحت کی حدود سے 100 گنا زیادہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے، اور اسکول بند ہونے سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ کم عمر بچوں کی چھوٹی سانس کی نالیاں اور تیز سانس لینے کی شرح انہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں، جبکہ حاملہ خواتین کو بھی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

اعداد و شمار میں چھپا ایک بحران

اسموگ کو صرف خراب موسم کہنا آسان ہے، لیکن اعداد و شمار ایک زیادہ پریشان کن حقیقت ظاہر کرتے ہیں۔ لاہور آلودہ ہوا کے لحاظ سے دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شامل ہو چکا ہے، خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں جب کچھ ہی دنوں میں، ایئر کوالٹی انڈیکس 450 سے تجاوز کر جاتا ہے، جو اتنا خطرناک ہے کہ باہر نکلنا خودکشی کےمترادف ہے۔

IQ Air کے مطابق رواں ماہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1110 تک جا چکا ہے، جبکہ 5 سے 16 نومبر کے درمیان مسلسل 500 کی خطرناک حد سے تجاوز کرتا رہا۔ ملتان میں یہ 533 اور پشاور میں 338 تک ریکارڈ کیا گیا-


IQ Air کے مطابق لاہورکاایئر کوالٹی انڈیکس

تحقیق کے مطابق اس بحران کے پیچھے اصل مجرم وہ باریک ذرات ہیں جنہیں PM 10 اور PM 2.5 کہا جاتا ہے۔ یہ مائیکرو ذرات کھیتوں کو جلانے، گاڑیوں کے دھویں اور صنعتی اخراجات سے پیدا ہوتے ہیں اور اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ خون میں شامل ہو کر پھیپھڑوں اور دل کو طویل مدتی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پنجاب کے شہروں میں سردیوں کے مہینوں میں PM 10 اور PM 2.5 کی سطح اکثر عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔

لیکن اعداد و شمار صرف کہانی کا ایک حصہ ہیں۔ ہر نمبر کے پیچھے پنجاب کے بہت سے خاندان ہیں۔ لاہور کے دس سالہ بلال کے لیے اسموگ ایک موسمی پریشانی سے زیادہ ہے۔ یہ ایک روزانہ کی جنگ ہے۔ اس کی صبح ایک تیز کھانسی کے ساتھ شروع ہوتی ہے، جسے اس کی ماں صائمہ، جڑی بوٹیوں کے قہوے اور گھریلو ٹوٹکوں سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن کچھ اثر نہیں ہوتا۔ “ہم پچھلے ہفتے ڈاکٹر کے پاس گئے تھے”صائمہ اپنے شاہدرہ کے ایک کمرے کے گھر میں بلال کو گلے لگاتے ہوئے کہتی ہیں۔ “ڈاکٹر نے کہا کہ اس ہوا کی وجہ میرے بیٹے کو دمہ ہو گیا ہے، ہم کیا کریں؟ سانس لینا تو نہیں چھوڑ سکتے۔”

 فیصل آباد میں، شازیہ اپنا آدھا دن اپنی دو بیٹیوں کی دیکھ بھال میں گزارتی ہیں، جو اسموگ کے موسم میں مسلسل کھانسی کا شکار رہتی ہیں۔ “پچھلے مہینے ایک بیٹی کی ناک سے خون بہنے لگا،” شازیہ کہتی ہیں۔ “ڈاکٹر نے کہا یہ ہوا کی وجہ سے ہے۔ میں دونوں کے لیے دوا خرید نہیں سکتی، اس لیے ایک دن ایک کو اور دوسرے دن دوسری کو دیتی ہوں۔ آپ اپنے بچوں میں کیسے فرق کریں؟”

پنجاب کے فضائی بحران کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ یہ دہائیوں کی غیر مستحکم پالیسیوں اور ناقص ضابطوں کا نتیجہ ہے۔ ہر سال، صوبہ بھر میں کسان کھیتوں سے باقیات کو صاف کرنے کے لیے لاکھوں ٹن فصلوں کے بچے ہوئے حصے جلا دیتے ہیں۔ اس آگ سے نکلنے والا دھواں شہروں کی طرف آتا ہے اور شہری آلودگی کے ساتھ مل کر ایک زہریلا ماحول بنادیتاہے۔

لاہور جیسے  شہروں میں، ٹریفک کا انتشار مسئلے میں ایک اور تہہ شامل کردیتا ہے۔ زنگ آلود بسیں کالا دھواں چھوڑتی ہیں، جبکہ رکشے اور موٹر سائیکلیں جو اکثر ناقص ایندھن پر چلتی ہیں، سڑکوں پر ہر طرف نظر آتی ہیں۔ صنعتیں، خاص طور پر اینٹوں کے بھٹے اور اسٹیل فیکٹریاں، کم نگرانی کے ساتھ کام کرتی ہیں اور دن رات زہریلی گیسیں فضا میں چھوڑتی ہیں۔

گورنمنٹ کالج جھنگ کے شعبہ جغرافیہ کے پروفیسر محمد احمد سیال کتہے ہیں کہ یقنینی طور پریہ ایک مشکل صورت حال ہے لیکن اس کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے فصلوں کی باقیات کو جلانا،بھٹوں فیکٹریوں اور ٹریفک کا دھواں ،دیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں لوگوں کی منتقلی اور دیگر عناصر مل کر اس کا سبب بنتے ہیں ۔اس سے بچاؤ کے لئے ہر سطح پر کام کرنا ہوگا ، یقینی طور پر حکومتی سطح پر بھی اقدامات کئے جارہے ۔ قانون کے نفاذ تو کروانا پڑتا ہے لیکن جب تک ہم خود اس کو ایک مسئلہ نہیں سمجھیں گئے تب تک یہ حل نہیں ہوگا، ہمیں گھروں میں پودے لگانے ہونگے تاکہ کاربن جذب ہوسکے۔ اس ک ےعلاوہ آگاہی کا سلسلہ بھی جاری رکھنا ہوگا ۔ ہر شخص کو اپنی سطح پر بھی اس کے لیئے کام کرنا ہوگا کیونکہ ہم نے زندہ رہناجس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی ورنہ صورت حال اس بھی زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔

انسانی حقوق کے سماجی کارکن آصف منور کہتے ہیں قدرت بھی پنجاب کے خلاف کام کرتی نظر آتی ہے۔ سردیوں میں ٹھنڈا درجہ حرارت آلودگی کو زمین کے قریب روک لیتا ہےاور ایک زہریلا آمیزہ بناتے ہیں جو ہفتوں تک ٹھہرا رہتا ہے۔

اس بحران کے فرنٹ لائن پر موجود لوگوں کے لیے اسموگ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بقا کا سوال ہے۔ اوکاڑہ میں کسان غلام عباس جانتے ہیں کہ انہیں دھواں پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، لیکن ان کی حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔ “ہم سے کہا جاتا ہے کہ کھیت نہ جلائیں، لیکن ہم اور کیا کریں؟” غلام ایک جلے ہوئے بھوسے کے ڈھیر کے پاس کھڑے ہو کر پوچھتے ہیں۔ “جس مشین کے بارے میں وہ بات کرتے ہیں وہ بہت مہنگی ہےاور کوئی ہماری مددبھی نہیں کرتا-“

دریں اثنا، شہری اس کی قیمت چکاتے ہیں۔ اساتذہ کلاسیں منسوخ کر دیتے ہیں کیونکہ بچے اسکول آنے کے لیے بہت بیمار ہوتے ہیں۔ اسپتال مریضوں سے بھرے ہوتے ہیں جو سانس لینے کے لیے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ کاروبار جلدی بند ہو جاتے ہیں کیونکہ اسموگ گاڑھی ہو جاتی ہے اور دیکھنے کی حد چند میٹر تک محدود رہ جاتی ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات محمد عارف کہتے ہیں کہ ہم صبح لے کر شام تک اسی کام پر لگے ہوئے ہیں جھنگ میں سموگ کے اپنے ذاتی عوامل اتنے زیادہ نہیں ہیں بلکہ ہمیں یہ دوسرے علاقوں سے امپورٹ ہوتی ہے ،جو تھوری بہت وجوہات ہیں جن میں گرد،بھٹوں، فیکٹریوں اور ٹریفک کا دھواں ہے اور اس میں کچھ حصہ فصلوں کی باقیات کے جلانے کا بھی ہے ۔ تمام سرکاری محکمے اس کے لئے دن رات کام کررہے ہیں۔ محکمہ ایکسائز جھنگ کے پاس 1 لاکھ 58 ہزار سے زائد گاڑیاں رجسٹرد ہیں گزشتہ تین ماہ کے دوران ہم دولاکھ سے زائد جرمانہ کر چکے ہیں، 610 چلان کرچکے ہیں۔ جھنگ میں 303 بھٹے ہیں جن میں سے 169 فنگشنل جب کہ باقی بند پڑے ہوئے ہیں- اس کے علاوہ محکمہ زراعت کے پاس 49 باقیات جلانے کے کیسز ریکارڈ ہوئےہیں جن پر تین لاکھ سے زائد جرمانہ کیا جاچکا ہیے تمام محمکے مکمل طور بلاتفریق کاروائیاں جاری رکھیں ہوئے ہیں لیکن عوام کو بھی ہمارا ساتھ دینا ہوگا تاکہ ہمارا ماحول صاف رہ سکے ۔

مستقبل کیا ہے

سوال یہ نہیں کہ کچھ کرنا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اور کب؟ بھارتی پنجاب میں 2022 کی ایک مہم کے تحت کسانوں کو سبسڈی والی مشینیں فراہم کی گئیں تاکہ فصل کے بچے ہوئے حصے کو جلائےبغیر سنبھالا جا سکے۔ اس پروگرام نے کھیتوں کو جلانے کے عمل میں تقریباً 70 فیصد کمی کی۔ پاکستان میں بھی اسی طرح کی کوششیں دیہی اور شہری علاقوں دونوں کو فوری ریلیف دے سکتی ہیں۔

شہروں میں ٹرانسپورٹ کے نظام میں جدت لانے اور سخت قوانین بنانے سے بھی بڑا فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ چین میں بیجنگ جیسے بڑے شہروں نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کر کے اور گاڑیوں کے اخراج کے سخت معیار نافذ کر کے کامیابی سے اسموگ پر قابو پایا ہے۔ لاہور کی اورنج لائن میٹرو اس بات کی ایک جھلک پیش کرتی ہے کہ کیا ممکن ہے، لیکن اس کی مکمل صلاحیت کے لیے مزید آگاہی اور اپنانا ضروری ہے۔

حکومت نے نوٹس لینا شروع کر دیا ہے۔ 2023 میں، انسداد اسموگ اسکواڈز فیکٹریوں کا معائنہ کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کے لیے تعینات کیے گئےتھے۔ لیکن حقیقی تبدیلی کے لیے ان اقدامات کو بڑھانے اور جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین عوامی آگاہی مہمات، صنعتوں کے صاف ستھرے طریقوں، اور بہتر ایندھن کے معیار کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

پنجاب حکومت نے  چکوال ، جہلم اور گوجر خان میں اسموگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مصنوعی بارش کےلئے مقامی ٹیکنالوجی کےزریعےسے کامیاب تجربے کئے ہیں جو مستقبل میں کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں۔

تبدیلی میں وقت تو لگے گا، لیکن چھوٹی کامیابیاں بھی امید پیدا کرتی ہیں۔ 2024 میں، لاہور کے ایک گروپ نے ایک بنیادی سطح کی مہم کا آغاز کیا، جس میں شدید آلودہ علاقوں میں مفت ماسک تقسیم کیے گئے اور درخت بھی لگائے گئے۔ ان کی یہ کوششیں راتوں رات آسمان کو صاف نہیں کر سکتیں، لیکن یہ یاد دلاتی ہیں کہ حل ممکن ہے اور ہمارے قریب ہیں۔

پنجاب بھر کے لاکھوں لوگوں کے لیے، یہ صرف سانس لینے کا مسئلہ نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے۔ وہ ہوا جو ہمیں مار رہی ہے، وہی ہمیں ایک ساتھ جوڑ بھی رہی ہے۔ پالیسیوں کے صحیح امتزاج اور اجتماعی کوششوں سے پنجاب کی اس “ہوائی آفت” کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos