جھنگ میں نشوونمائی مسائل، آٹزم اور سیریبرل پالسی سے متاثرہ بچوں کے لیے جدید ری ہیبلیٹیشن سنٹر کا افتتاح
جھنگ: نشوونمائی مسائل، سیریبرل پالسی، بولنے اور بیٹھنے میں تاخیر اور آٹزم سے متاثرہ بچوں کی بحالی اور بہتر مستقبل کے لیے علی احمد خان ہسپتال جھنگ میں میر ری ہیبلیٹیشن سنٹر (Meer Rehabilitation…

جھنگ: نشوونمائی مسائل، سیریبرل پالسی، بولنے اور بیٹھنے میں تاخیر اور آٹزم سے متاثرہ بچوں کی بحالی اور بہتر مستقبل کے لیے علی احمد خان ہسپتال جھنگ میں میر ری ہیبلیٹیشن سنٹر (Meer Rehabilitation Centre) کا افتتاح کر دیا گیا۔ سنٹر میں بچوں کو ایک ہی چھت تلے فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی اور بحالی کی دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی، جس کا مقصد انہیں زیادہ سے زیادہ خودمختار اور معاشرے کا فعال حصہ بننے میں مدد دینا ہے۔
افتتاحی تقریب میں معروف بزنس مین شیخ فواد اکرم، ممبر پنجاب اسمبلی میجر محمد سرور، کوہ نور انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ شاہد حمید، ہمالین فوڈز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ عامر جمشید، شیخ محمد اسلم سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر جاوید عامر شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ری ہیبلیٹیشن سنٹر کے قیام کا بنیادی مقصد ان بچوں کو معیاری بحالی کی سہولیات فراہم کرنا ہے جنہیں جسمانی نشوونما، بیٹھنے، بولنے یا دیگر نشوونمائی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ عملے، ڈاکٹروں، فزیوتھراپسٹس اور اسپیچ تھراپسٹس کی معاونت سے بچوں کی ضروریات کے مطابق بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں زیادہ خودمختاری حاصل کر سکیں اور دوسروں پر انحصار کم ہو۔
ڈاکٹر جاوید عامر شیخ کے مطابق اس سنٹر کے قیام سے جھنگ اور گردونواح کے خاندانوں کو اپنے بچوں کی بحالی اور تھراپی کے لیے فیصل آباد یا لاہور جانے کی دشواری اور اخراجات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایک ہی مقام پر مختلف سہولیات کی دستیابی سے والدین کو بچوں کی دیکھ بھال اور بحالی کے عمل میں آسانی ہوگی۔
تقریب کے شرکاء نے سنٹر کے قیام کو جھنگ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے خصوصی ضروریات کے حامل بچوں اور ان کے خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ شرکاء کے مطابق علاقے میں آٹزم سے متاثرہ تقریباً 450 بچوں اور ان کے خاندانوں کو اس منصوبے سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ سنٹر کا قیام ایسے بچوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے اور انہیں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔


