پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2286 کی منظوری کے دس سال بعد بھی تنازعات کے دوران ہسپتالوں اور طبی عملے پر حملے تشویشناک حد تک جاری ہیں، جس کے مؤثر نفاذ اور احتساب کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2286 کی منظوری کے دس سال بعد بھی تنازعات کے دوران ہسپتالوں اور طبی عملے پر حملے تشویشناک حد تک جاری ہیں، جس کے مؤثر نفاذ اور احتساب کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے ایریا فارمولا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں کو محفوظ علاج گاہیں رہنا چاہیے اور طبی عملے کو بلاخوف خدمات انجام دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ طبی سہولیات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جو صحت کے نظام کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
صائمہ سلیم نے بتایا کہ پاکستان نائجیریا، سپین اور یوراگوئے کے ساتھ مل کر ICRC کے تحت بین الاقوامی انسانی قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک عالمی اقدام کی مشترکہ قیادت کر رہا ہے۔
انہوں نے پانچ نکات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانی ہمدردی کے قوانین پر عملدرآمد، خلاف ورزیوں کی روک تھام، مؤثر احتساب، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال اور تنازعات کا پرامن حل ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طبی سہولیات پر حملے سنگین جرم ہیں اور اس پر خاموشی یا استثنیٰ قبول نہیں کیا جا سکتا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *