مستونگ میں خود کش دھماکہ,50سے زائد افراد شہید،متعدد عالمی رہنماوں کی مزمت
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں عیدمیلاالنبیۖ کے جلوس کے قریب خود کش دھماکے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق پچاس سے زائد افراد شہید جبکہ زخمیوں کی تعداد سو سے تجاوز کر چکی…

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں عیدمیلاالنبیۖ کے جلوس کے قریب خود کش دھماکے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق پچاس سے زائد افراد شہید جبکہ زخمیوں کی تعداد سو سے تجاوز کر چکی ہے زخمی ہوگئے ہیں۔
واقعہ میں شہید ہونے والوں میں ڈی ایس پی سٹی نواز گشکوری شامل ہیں زخمی افراد کو علاج معالجے کیلئے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا ہے ۔پولیس کے مطابق کچھ زخمی افراد کو علاج کیلئے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیاگیا ہے۔
بلوچستان کی حکومت نے دھماکے میں شہید ہونے والے کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے صوبے بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ۔تین روزہ سوگ کے دوران سرکاری عمارتوں پرقومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
صدر ڈاکٹر عارف علوی اور نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مستونگ اورہنگو دھماکوں کی شدید مذمت کی ہیں۔انہوں نے دھماکوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ ورنج کا اظہارکیا ہے ۔انہوں نے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے ان کے روح کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی اور دھماکوں میں زخمی افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔
اطلاعات و نشریات کے نگران وزیر مرتضیٰ سولنگی نے مستونگ اورہنگو میں دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔انہوں نے کہا پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔انہوں نے عوام اور سکیورٹی فورسز کے تعاون سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور دہشت گردوں اور تخریبی کارروائیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیاجائے گا ۔
دنیا کے مختلف ممالک نے مستونگ اور ہنگو میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
متعلقہ وزارتوں کے الگ الگ بیانات میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، ایران، عراق اور فرانس نے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مملکت کے مضبوط موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد اور دہشت گردی جہاں بھی ہو اسے مسترد کر دیا جائے۔
ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس اندھے فعل نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا ہے کہ دہشت گردوں کا اپنی جہالت اور اسلامی تعلیمات سے دوری کے علاوہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کے اور کوئی مقصد نہیں ہے۔
انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اس مجرمانہ فعل پر سنجیدگی سے ردعمل کا اظہار کریں اور ایسے المناک واقعات کے اعادہ کو روکیں۔
عراقی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کی طرف سے اس کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انقرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عزم کے ساتھ پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔
فرانس کی حکومت نے ایک بیان میں پاکستان میں مذہبی جلوسوں کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ان مجرمانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی اقدار اور اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔
الجزائر نے بھی دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اور پاکستان کی طرف سے اس طرح کی مجرمانہ کارروائیوں کو روکنے اور اس کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا۔


