خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی نومنتخب باڈی نے حلف اٹھا لیا، ملک فیصل عباس اکیرا صدر اور فہد خالد نائب صدر منتخبپہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہ
بین الاقوامی

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی بندش سے افغان خواتین کیلئے انصاف کا آخری دروازہ بھی بند ہونے کا خدشہ

بین الاقوامی کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی ممکنہ بندش سے افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف کے حصول کا ایک اہم عالمی راستہ بھی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔…

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی بندش سے افغان خواتین کیلئے انصاف کا آخری دروازہ بھی بند ہونے کا خدشہ

بین الاقوامی کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی ممکنہ بندش سے افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف کے حصول کا ایک اہم عالمی راستہ بھی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ عالمی عدالت کے غیر موثر ہونے کی صورت میں طالبان رہنما ئوں کو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مبینہ جرائم پر جوابدہی سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق طالبان کے افغانستان میں اقتدار پر قبضے کے بعد خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت، ملازمت اور تعلیم سمیت بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔

برطانوی جریدے کے مطابق افغان خواتین کے لیے انصاف کے راستے پہلے ہی انتہائی محدود ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی کریمنل کورٹ ان کے لیے داد رسی کا ایک اہم ذریعہ رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئی سی سی بعض طالبان رہنماں کے خلاف خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مبینہ جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔

جریدے نے خبردار کیا کہ عالمی عدالت کے کمزور یا بند ہونے کی صورت میں طالبان رہنمائوں سمیت دیگر طاقتور شخصیات کے لیے قانون کی گرفت سے بچنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بین الاقوامی فوجداری انصاف کے نظام کو کمزور کرنے سے دیگر طاقتور حکمرانوں کے خلاف احتساب کی کوششیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بین الاقوامی انصاف کا مقصد صرف ماضی کے جرائم پر سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی روک تھام بھی ہے۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں