جاننا آپ کا حق ہے
28 ستمبر کو دنیا بھر میں معلومات تک رسائی کا عالمی دن منایا گیا۔2015 میں اقوام متحدہ کے ادراے یونیسکو نے ستمبر کو معلومات کا عالمی دن قرار دیا اس بات کو مد نظر…

28 ستمبر کو دنیا بھر میں معلومات تک رسائی کا عالمی دن منایا گیا۔2015 میں اقوام متحدہ کے ادراے یونیسکو نے ستمبر کو معلومات کا عالمی دن قرار دیا اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر سال دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سول سوسائٹی کی تنظیموں اور حکومتی اداروں کی جانب سے یہ دن منایا جاتا ہے ۔معلومات تک رسائی کے قوانین دنیا کے سو سے زائد ممالک میں موجود ہیں۔ان قوانین کو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہر شہری کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اس کے نمائندے ، سرکاری افسران ، ان کے دیئے جانے والے ٹیکس کے پیسوں سے جو کام کررہے ہیں ان میں کتنی شفافیت ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاق میں معلومات تک رسائی کے قوانین موجود ہیں جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 اے کی روشنی میں بنائے گئے ہیں۔2013 میں پنجاب میں معلومات تک رسائی کا قانون ،دی پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 بنایا گیا جس میں معلومات تک رسائی کے لئے قوانین وضع کئے گئے اور مسائل کو حل کرنے کئے پنجاب انفارمیشن کمیشن کا ادارہ بھی قائم کیا گیا ۔
دی پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ تمام حکومتی اداروں سے اس قانو ن کے مطابق معلومات لے سکتا ہےلیکن بہت سے سرکاری اداروں سے اس قانون کے موجود ہوتے ہوئے بھی معلومات کا حصول کوئی آسان کام نہیں ہے جبکہ قانون میں مستثنیات کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے جس کے مطابق سوائے کسی شخص کی ذاتی نوعیت کی معلومات، وہ معلومات بھی جن کو قانونی طور پرتحفظ حاصل ہو، ملکی مفادات سے متصادم ہوں ، امن عامہ کو نقصان پہنچے کا خدشہ ہو( ان تما م مستثنیات کا ذکر قانون میں تفیصل سے موجود ہے )ان کو جواز بنا کر بہت سے سرکاری ادارے معلومات کو دینے سے گریز کرتے ہیں ، تاخیر سے کام لیتے ہیں یا ادھوری معلومات فراہم کرتے ہیں اگرچہ اس بات کا فیصلہ پنجاب انفارمشن کمیشن کر ے گا کہ ایسی معلومات شہریوں کو فراہم کی جانی ہیں یا نہیں اور فیصلہ کرتےہوئے اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ ان معلومات کو فراہم کرنے سے نقصان کم ہوگا یا مفاد عامہ میں اضافہ ہوگا ۔
اس قانون کو بنانے کی بنیادی وجہ شفافیت اور حکومتی نظام میں عوام کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے حکومتی نظم ونسق کا جدید تصور اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومتی اہلکار عوامی نگرانی میں کام کریں اور انہیں اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ تما م تر سرکاری افسران نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر ہیں جن کی وجہ سے وہ معلومات کی فراہمی میں تاخیرکرتے ہیں۔
دی نیوز، لوک سجاگ اور انڈیپنڈنٹ اردو کے لئے کام کرنے والے فصیل آباد کے صحافی نعیم احمد کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بہترین اور مؤثر قانون ہے جس سے سرکاری محکموں کے امور میں شفافیت پیدا کرکے ان کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور وہ اس قانون کا استعمال اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ بطور صحافی ان کا کام ہی شہریوں تک حقائق پہنچانا ہے۔ اس قانون کے ذریعے سے حاصل ہونے والی معلومات سے مکمل اعداد وشمار اور حقائق کو جاننے میں مدد ملتی ہے جس سے خبر کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ نعیم احمد کا کہنا ہے کہ اس قانون کو سرکاری افسران نے ابھی تک مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا ہے جس کے باعث اول تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معلومات فراہم ہی نہ کی جائیں یا اگر معلومات دی جائیں تو اس میں ہر ممکن تاخیر کی جائے۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل اس قانون کے تحت فصیل آباد پولیس کو معلومات کی فراہمی کے لئے ایک درخواست دی لیکن محکمہ پولیس نے ان کے ہی سمن جاری کر دیئے جس پر پنجاب انفارمیشن کمیشن نے قانون پر عملدرآمد کرواتے ہوئے نہ صر ف ان کو مدد فراہم کی بلکہ انہیں ان کی مطوبہ معلومات بھی فراہم کی گئیں۔
بطور شہری 2018 میں سنٹر فار پیس اینڈ انیشیٹیو(سی پی ڈی آئی) کی جانب سے رائٹ ٹو انفارمشن ایوارڈحاصل کرنے والے جھنگ کے آصف منور کہتے ہیں کہ معلومات جاننا ہر شہری کا حق ہے اور یہ حق ہماراآئین پاکستان ہمیں دیتا ہے اور تمام قوانین آئین پاکستان کی روشنی میں بنائے جاتے ہیں ۔ حکومتی اداروں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ زیارہ تر معلومات ازخود جیسا کہ سالانہ رپورٹس ،سرکاری ادارے کے افسران اور اس کے ملازمین کے مشاہروں اور مراعات کے بارے میں معلومات ،مالی امدادکی رقم،ان لوگوں کے بارے میں میں تفصیلات جنہوں سرکاری ادار ےسے مراعات یا اجازت نامے لئے ہوں اور اس قسم کی دیگر معلومات ذرائع ابلاغ جیسا کہ الیکٹرونک پرنٹ میڈیا ، سوشل میڈیا اور سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر ظاہر کرے لیکن ہمارے اداروں میں یہ رواج بہت کم ہے ۔جس کی وجہ سے وہ زیادہ زیادہ اس قانون کا استعمال کرتے ہوئے معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ دی پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013بہت اچھا قانون ہے جس سے ہر شہریوں کو اپنے علاقے میں ہونے والے مسائل اور ان کے تدارک کرنے میں مدد ملتی اور انہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کے منتخب نمائندوں نے جو وعدے ان سے کئے ہیں وہ کس حد تک پورے کئے جارہے ہیں اور اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے بہت سی معلومات حاصل کیں ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ انہیں اکثر اوقات معلومات کی فراہمی میں میں بہت زیادہ تاخیر کا سامنا کرناپڑ ا لیکن وہ اپنی کو شش کرتے رہےہیں اور اب تک کررہے ہیں وہ امید کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران اور اداروں کے رویئے میں بہتری آئے گئی ۔
سابق چیف انفارمیشن کمشنر ،پاکستان انفارمیشن کمیشن اور سی پی ڈی آئی رائٹ ٹوانفارمشن ایڈوائزرزاہد عبداللہ صاحب کہتے ہیں یہ ایک بہت اچھا قانون ہے اس قانون کے مطابق شہری ایک سادہ کاغذ پر اپنے ہاتھ سے متعلقہ محکمہ کے افسر یا پبلک انفارمیشن آفسیر کے نام درخواست لکھ کر رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوا سکتا ہے یا انہیں ای میل بھی کر سکتا ہے ۔اس قانون کو عام طور پر شہر ی اور صحافی معلومات کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن انہیں ابھی کچھ مسائل کا سامنا ہے جس کے لئے پنجاب انفارمیشن کمیشن موجود ہے جو ان مسائل کو حل کرنے میں مثالی کردار ادا کر رہاہے۔ شہر ی زیادہ سے زیادہ اس قانون کا استعمال کریں جس سے انہیں مستند معلومات میسر آئیں گئی۔ دوسری بات یہ کہ بہت سارے لوگوں ابھی اس قانون کے بارے میں مکمل طورپر آگاہ ہی نہیں جس کی وجہ سے اس قانون کےاستعمال کر نے والے افراد کو مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔ اب بھی بہت سے صحافی اور معاشرے کی بہتری کے سوچ رکھنے والے شہر ی اس کا استعمال کرتے ہیں اور جیسے جیسے اس قانون کے استعمال میں اضافہ ہوگا اس میں بہتری آئے گئی اور اداروں کی بھی تربیت ہوگی اور اداروں میں بیٹھے افراد کے سوچنے کے انداز میں بھی تبدیلی آئے گئی کیونکہ 75 سال سے ہمارے اداروں میں بیٹھے افراد کو اس کی عادت ہی نہیں ہےکہ ان سے بھی پوچھا جاسکتا ہے لہذا ان کے اس انداز کو بدلنے کی ضرورت اور یہ اس وقت بدلے گاجب زیادہ سے زیادہ لوگ اس قانو ن کا استعمال کریں گئے ۔لہذا شہریوں کو چاہیے کہ اس قانون کا زیادہ سے زیادہ استعما ل کریں کیونکہ جاننا آپ کا حق ہے ۔


