( وحید ختر چوہدری سے)یونیورسٹی آف جھنگ میں بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کو عملی تربیت اور پریکٹیکل نہ کروائے جانے کے معاملے پر طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ عملی تعلیم سے متعلق مسائل کے باعث ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں
( وحید ختر چوہدری سے)یونیورسٹی آف جھنگ میں بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کو عملی تربیت اور پریکٹیکل نہ کروائے جانے کے معاملے پر طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ عملی تعلیم سے متعلق مسائل کے باعث ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور انہیں اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کو مبینہ طور پر پریکٹیکل کی مناسب سہولت اور عملی تربیت فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث طالبات کو اپنی تعلیم مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ کمپیوٹر سائنس جیسے شعبے میں عملی تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پریکٹیکل کے بغیر کورس کی تکمیل اور مطلوبہ تعلیمی اہداف کا حصول متاثر ہوسکتا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بھاری اخراجات برداشت کر رہے ہیں، تاہم اگر تعلیمی معاملات بروقت حل نہ کیے گئے تو نہ صرف طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ والدین کی جانب سے تعلیم پر خرچ کیا جانے والا سرمایہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بی ایس آئی ٹی اور بی ایس کمپیوٹر سائنس میں رواں سال داخلوں کے حوالے سے بھی صورتحال واضح نہ ہونے کے باعث طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث ان پروگراموں میں داخلہ لینے کے خواہشمند طلبہ اور ان کے والدین اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
متاثرہ طالبات اور ان کے والدین نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور گورنر پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف جھنگ میں بی ایس کمپیوٹر سائنس سمیت متعلقہ پروگراموں کے تعلیمی و عملی معاملات کا فوری نوٹس لیا جائے، طلبہ کو درپیش مسائل کا شفاف اور مستقل حل نکالا جائے اور اگر کسی انتظامی غفلت یا کوتاہی کے باعث طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے تو ذمہ داران کا تعین کرکے قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔
والدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے بچوں کے تعلیمی مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے اور پریکٹیکل سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
واضح رہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *