خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پاکستان کسٹمز نے سکھر بیراج پر اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دیوزیر خزانہ کا پائیدار اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے عزم کا اعادہوزیراعظم کا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی استعدادِ کار بہتر بنانے کی ضرورت پر زورصدرٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ سے جلد نکلنے کا عندیہ، یورپ پر کڑی تنقیدپاک امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026، سفیر پاکستان کی امریکی ٹیک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوتسہ ملکی سیریز، پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے ہرا دیاوزیراعظم کی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام اسپتالوں میں طبی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایتمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
جھنگ

جھنگ میں ایل پی جی 500 سے روپے زائد فی کلو تک فروخت ہونے لگی، پرائس کنٹرول کے ادارے سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام نظر آتے ہیں

جھنگ: ضلع بھر میں ایل پی جی گیس کی مہنگے داموں فروخت کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق مختلف شہری علاقوں میں ایل پی جی گیس 480…

جھنگ میں ایل پی جی 500 سے  روپے زائد فی کلو تک فروخت ہونے لگی، پرائس کنٹرول کے ادارے سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام نظر آتے ہیں

جھنگ: ضلع بھر میں ایل پی جی گیس کی مہنگے داموں فروخت کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق مختلف شہری علاقوں میں ایل پی جی گیس 480 سے 500 روپے فی کلو، جبکہ گردونواح کے دیہی علاقوں میں 550 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول کے متعلقہ ادارے ایل پی جی کی فروخت سرکاری نرخوں کے مطابق یقینی بنانے میں ناکام نظر آتے ہیں، جس کے باعث صارفین مہنگے داموں گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جھنگ شہر کے ایوب چوک، شہید روڈ، سرکلر روڈ اور فیصل آباد روڈ سمیت مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق سردیوں کا موسم شروع ہونے سے پہلے ہی گیس کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں شہریوں کو مزید مہنگے داموں گیس خریدنا پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب ایل پی جی کے بعض ڈیلروں کا مؤقف ہے کہ انہیں پلانٹس سے گیس مہنگے داموں مل رہی ہے، جس کے باعث وہ اسے کم قیمت پر فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق پلانٹ سے دکان تک گیس کی ترسیل، ڈیزل اور پٹرول کے اخراجات، دکانوں کے کرائے، بجلی کے بل اور دیگر اخراجات بھی کاروباری لاگت میں شامل ہیں۔ ڈیلروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑے سلنڈروں سے چھوٹے سلنڈروں میں گیس منتقل کرتے وقت وزن میں ہونے والے مبینہ نقصان کو بھی انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پلانٹس سے گیس مناسب نرخوں پر فراہم کی جائے تو صارفین کو بھی نسبتاً کم قیمت پر فروخت ممکن ہو سکتی ہے۔

شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس، پیرا فورس اور متعلقہ انفورسمنٹ حکام کی جانب سے گیس پلانٹس اور ڈیلروں کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہ ہونے کے باعث قیمتوں پر قابو نہیں پایا جا رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے باقاعدہ نگرانی اور قیمتوں کے ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ایل پی جی فروخت کرنے والے ڈیلر من مانے نرخ وصول نہ کر سکیں۔ تاہم، متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیئرمین اوگرا، ڈپٹی کمشنر جھنگ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں اور سپلائی کے نظام کی جانچ پڑتال کی جائے، سرکاری نرخوں کے مطابق فروخت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مہنگے داموں گیس کی فروخت کا سلسلہ نہ روکا گیا تو عوامی احتجاج میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں