دربار حضرت سلطان باہوؒ پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی اتحاد سے اظہارِ یکجہتی، مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ہزاروں افراد کا انسانی ماڈل
جھنگ: مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام دربار حضرت سلطان باہوؒ پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہزاروں افراد نے انسانی ماڈل پیش کیا۔…

جھنگ: مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام دربار حضرت سلطان باہوؒ پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہزاروں افراد نے انسانی ماڈل پیش کیا۔ سفید لباس میں ملبوس اور سروں پر امن کی دستاریں سجائے شرکاء نے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امن، اتحاد اور مشترکہ سلامتی کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسلم انسٹیٹیوٹ کے سربراہ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون کا ایک اہم پہلو حرمین شریفین کے دفاع کے لیے افواجِ پاکستان کے تاریخی عزم کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہمیشہ پُرعزم رہی ہے، جو پاکستانی قوم کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ اس انسانی ماڈل کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی سلامتی عام شہریوں کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی ان کی حکومتوں کے لیے۔ تیزی سے بدلتی عالمی صورتِ حال میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے کے سکیورٹی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذمہ دار ریاستیں درپیش اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منظم اور مضبوط بناتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تینوں ممالک اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرکے باہمی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں، جبکہ اس نوعیت کا دفاعی تعاون انہیں دفاعی اعتبار سے مزید خودمختار بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ اس دفاعی تعاون میں مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت کی گنجائش بھی موجود ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی ماڈل میں شریک افراد امن کے خواہاں ہیں، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاعی تعاون جارحیت کی روک تھام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
تقریب کے ذریعے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ سلامتی کے فروغ کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔


