پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے ناانصافی، بے توقیری، ادھورے وعدوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ضمانت شدہ حقِ خودارادیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی
پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے ناانصافی، بے توقیری، ادھورے وعدوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ضمانت شدہ حقِ خودارادیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔
وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو دہشت گردی سے لاحق خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اگست ایک افسوسناک دن کی یاد دلاتا ہے، جب سات برس قبل بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات مسلط کیے گئے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے اقدامات کے بعد کشمیری عوام کو جبر کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا تسلسل ہے ۔
سفیر نے کہا کہ نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔
انہوں نے کہا ک دہشت گردی کے خلاف جامع عالمی ردِعمل میں دہشت گردی کی تمام صورتوں اور مظاہر کا مؤثر تدارک ضروری ہے، جن میں غیر ملکی قبضے کے حالات میں سامنے آنے والی ریاستی دہشت گردی بھی شامل ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی برادری کو یقینی بنانا چاہیے کہ انسدادِ دہشت گردی کو غیر ملکی قبضے کے خلاف عوام کی جائز جدوجہد اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو دبانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ دوہرے معیار اور امتیازی رویوں کے بغیر جامع اور مربوط عالمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
سفیر نے کہا کہ افغانستان سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے دہشت گرد خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹنا ناگزیر ہے؛ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *