بین الاقوامی کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی ممکنہ بندش سے افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف کے حصول کا ایک اہم عالمی راستہ بھی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ عالمی عدالت کے غیر موثر ہونے کی صورت میں طالبان رہنما ئوں
بین الاقوامی کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی ممکنہ بندش سے افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف کے حصول کا ایک اہم عالمی راستہ بھی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ عالمی عدالت کے غیر موثر ہونے کی صورت میں طالبان رہنما ئوں کو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مبینہ جرائم پر جوابدہی سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق طالبان کے افغانستان میں اقتدار پر قبضے کے بعد خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت، ملازمت اور تعلیم سمیت بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔
برطانوی جریدے کے مطابق افغان خواتین کے لیے انصاف کے راستے پہلے ہی انتہائی محدود ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی کریمنل کورٹ ان کے لیے داد رسی کا ایک اہم ذریعہ رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی سی سی بعض طالبان رہنماں کے خلاف خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مبینہ جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔
جریدے نے خبردار کیا کہ عالمی عدالت کے کمزور یا بند ہونے کی صورت میں طالبان رہنمائوں سمیت دیگر طاقتور شخصیات کے لیے قانون کی گرفت سے بچنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بین الاقوامی فوجداری انصاف کے نظام کو کمزور کرنے سے دیگر طاقتور حکمرانوں کے خلاف احتساب کی کوششیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی انصاف کا مقصد صرف ماضی کے جرائم پر سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی روک تھام بھی ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *