خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
بین الاقوامی

دہلی میں منعقد ہونے والےکواڈ سمٹ میں امریکی صدر کی شرکت مشکوک

مودی سرکار کی ناقص سفارتی پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا۔ پاک بھارت جنگ میں امریکی ثالثی سے انکار ،بھارت کے سفارتی و معاشی زوال کی بڑی…

دہلی میں منعقد ہونے والےکواڈ سمٹ میں امریکی صدر کی شرکت مشکوک

مودی سرکار کی ناقص سفارتی پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا۔

پاک بھارت جنگ میں امریکی ثالثی سے انکار ،بھارت کے سفارتی و معاشی زوال کی بڑی وجہ بن گیا ۔

بھارتی جریدے بزنس اسٹینڈرڈ نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا :

ٹرمپ کا کواڈ سمٹ کے لیے ہندوستان کا دورہ کرنے کااب کوئی منصوبہ نہیں ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کو ٹیلی فون پر کواڈ سمٹ میں شرکت کیلئے بھارت آنے کا کہا تھا۔

امریکا اور بھارت کی حکومتوں نے نیویارک ٹائمز کے اس دعوے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

بزنس اسٹینڈرڈ نے یہ بھی لکھا کہ نومبر کے قریب نئی دہلی میں کواڈ سمٹ میں آسٹریلیا، جاپان اور امریکا کے رہنما شرکت کریں گے ۔ ٹرمپ اور مودی کے تعلقات اس وقت خراب ہونا شروع ہوئے جب ٹرمپ نے بار بار پاک بھارت جنگ بندی کا دعویٰ کیا۔ بھارت نے مئی میں ٹرمپ کے پاک بھارت جنگ بندی کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

بزنس اسٹینڈرڈ نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے بار بار دعوؤں نے مودی کو سخت ناراض کیا۔ جی 7سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ اور مودی میں فون پر بات چیت ہوئی تھی ، مودی اور ٹرمپ کی ملاقات اجلاس کے موقع پر ہونی تھی، لیکن ٹرمپ جلد واشنگٹن چلے گئے۔

بزنس اسٹینڈرڈنے یہ بھی لکھا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے پیغام میں کہا کہ: مودی نے ٹرمپ کی مداخلت سے انکار کیا۔

وکرم مصری نے کہا کہ مودی نے واضح طور پر ٹرمپ کو کہا کہ آپریشن سندور کے دنوں میں کسی سطح پر تجارتی معاہدے یا ثالثی کی کوئی تجویز پر بات نہیں ہوئی اور وزیر اعظم مودی نے کہا ہندوستان ثالثی کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی کرے گا۔

بزنس اسٹینڈرڈ نے لکھا کہ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی کے تبصروں کو بڑی حد تک مسترد کردیا،

اختلاف رائے اور نوبل امن انعام پر مشغول ہونے سے انکار نے تعلقات کی خرابی میں بڑا کردار ادا کیا۔

بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اب تک 40 سے زائد مرتبہ پاک بھارت جنگی بندی کے دعوے کو دہرا چکے ہیںاور ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریداری کی وجہ سے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔

بزنس اسٹینڈرڈ نے کہا لگتا ہے بھاری ٹیرف بھارت کو سزا دینے کیلئے ہیں کیونکہ وہ امریکا کی مرضی کے مطابق نہیں چل رہا اور رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ہندوستان کو منفرد طور پر نشانہ بنایا۔

بار بار ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے پاکستان کی کامیابی اور بھارت کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

مودی سرکارکی ناکام سفارتی پالیسیوں نے بھارتی عوام اور سرمایہ کاروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

مودی سرکار کی ہٹ دھرمی اور ضد نے بھارت پر دنیا کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں