خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
میگزین

ممتاز بلوچ

سرزمین جھنگ کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی کہ انسان کی اس سرزمین نے صدیوں پر محیط اس سفر میں لاتعداد حکمرانوں کے عروج زوال کو اپنے سینے میں سمیٹا.   جہاں پر جھنگ نے …

ممتاز بلوچ

سرزمین جھنگ کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی کہ انسان کی اس سرزمین نے صدیوں پر محیط اس سفر میں لاتعداد حکمرانوں کے عروج زوال کو اپنے سینے میں سمیٹا.   جہاں پر جھنگ نے  کئی فاتحین کی میزبانی کی اور لاتعداد حملہ آواروں کا سامنا کیا وہی پر اس دھرتی کو  سلطان الفقرا حضرت سلطان باہو کے مسکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے. اس قطعہ لازوال  نے کئی ایسے علم وادب کے ایسے سپوتوں کو جنم دیا جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں برصغیر پاک وہند کے دو نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام اور ہربند گھرانہ بھی یہی پیدا ہوئے. علم وادب کے حوالے سے بھی جھنگ کی سرزمین لاتعداد دانشوروں اور اہل قلم کی پرورش کی جن میں مجید امجد، جعفر طاہر، رفعت سلطان، شیرافضل جعفری، رام ریاض، بیدل پانی پتی، صفدر سلیم سیال معین تابش، ڈاکٹر محسن مگھیانہ، ممتاز بلوچ اور محمود شام جیسے نامور اہل قلم شامل ہیں.

ممتاز بلوچ جھنگ میں پروان چڑھنے والی وہ ادبی شخصیت ہیں جن کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ تحقیق، جستجو اور بامقصد ادبی تصانیف میں جداگانہ حثیت رکھتے ہیں تو غلط نہ ہوگا. ان کا مکمل نام ممتاز حسین ہے جبکہ ادبی حلقوں میں یہ ممتاز بلوچ کے نام سے جانے جاتے ہیں.

ممتاز بلوچ  نے ضلع سرگودھا کی تحصیل ساہیوال کے گاؤں سلکی میں یہاں کہ نمبردار احمد خان کے گھر بروز پیر 9 ربیع الثانی 1366ھجری  بمطابق 3 مارچ 1947 کو جنم لیا.

پرائمری  تعلیم سلکی گاؤں سے حاصل  کی میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول سرگودھا سے کیا اور بعد ازاں ڈپلومہ ان کامرس سے کیا. عملی زندگی کا آغاز سرگودھا  کے علاقہ فاروقہ میں 1971 بطور پرائمری ٹیچر ذمہ داریاں ادا کرنے سے کیا. 1978 میں  اسکول ٹیچر کی ذمہ داریوں کو خیر آباد کہہ کر میانوالی  میں  محکمہ واپڈا میں بطور اکاؤنٹ کلرک بھرتی ہوگئے اکتوبر 1979 میں جھنگ واپڈا آفس میں ٹرانسفر ہوا اور اس کے بعد  اس طلسماتی اور اعلیٰ اقدار کی سرزمین جھنگ نے ان کے قدم جکڑ لیے اور انہوں نے اس اپنے مستقل. مسکن کے طور پر چن لیا.

ممتاز بلوچ کے والد کو صوفیانہ شاعری سے لگاو تھا اور علاقے کا نمبردار ہونے کی وجہ سے ان کے پاس محفلیں جما کرتی تھیں وہیں سے انہیں شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی. ممتاز بلوچ نے اپنی پہلی غزل اس وقت لکھی جب وہ میٹرک میں پڑھا کرتے تھے جس کے بعد سے ان کا ادب سے ایسا تعلق جڑا جو اب تک قائم ہے.

– 1986 میں انہوں نے ادارہ ادبی جھوک کے پلیٹ فارم سے جھوک جھنگ کے نام سے رسالہ شائع کیا اس رسالے کے 1988 میں شائع ہونے والے حضرت سلطان باہو نمبر اور 1989 شیر افضل جعفری نمبر نے بہت شہرت حاصل کی. ممتاز بلوچ نے اپنی پہلی کتاب اک نظر 1988 میں لکھی 1989 میں چھٹیاں سجناں دیاں پنجابی خطوط پر مشتمل شائع ہوئی . 1991 میں مزدور جو مزدور کے   بارے میں نظموں کا مجموعہ ہے شائع ہوا  شعری مجموعہ سچ دا چسکا 1992 میں شائع ہوا . 1998 میں ہودے بیت جو ابیات باھو پر مشتمل مجموعہ اور2000 میں ماں بولی تے قرآن جس میں  مادری زبان کی اہمیت کے  اسلامی نقطہ نظر کے حوالے سے بھی بات کی گئی تھی شائع ہوئی. 2002 میں پنجابی شاعری کی کتاب عشق مہاراں چائیاں شائع ہوئی ممتاز بلوچ کی یہ کتاب 2006 میں بھارت کے شہر دہلی سے پروفیسر ہربھگوان نے بھی ہندی رسم الخط میں شائع کی. انٹرنیشنل پنجابی 2004،غیر مسلم شعراء کے نعتیہ کلام پر مشتمل کتاب عشق حبیب کبریا 2008،چج دے دوہڑے 2010،سلکی خان جو ممتاز بلوچ کے اپنے خاندانی شجرہ تاریخ پر مشتمل ہے 2010،بیاض عمر 2014،سی حرفی 2020 میں شائع ہوئیں. حیات و تعلیمات حضرت سلطان باہو پر انتہائی تحقیق پر مبنی کتاب تذکرہ سلطانی 2021 میں شائع ہوئی . اس کے علاوہ ممتاز بلوچ کی گورنانک کی زندگی پر تحقیقی تحریر کو بھارت میں سکھ کمیونٹی میں بہت شہرت حاصل ہوئی ممتاز بلوچ  اب تک لاتعداد مشاعروں اور ادبی محفلوں اور سمینارز میں شرکت کر چکے ہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں میں انہیں مختلف ادبی تنظیموں کی جانب سے اب تک 18 ایوارڈز سے بھی نواز گیا ہے. ممتاز بلوچ کے ادبی سفر کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جھنگ کی گود میں پلنے والے اس ادبی تخلیق کار کے جداگانہ اور صوفیانہ رنگ نے نہ صرف پنجاب بلکہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی کافی شہرت پائی

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں