خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
انسانی حقوق

پاکستان میں اقلیتوں کے قوانین  اور ان کے حقوق

2017 میں جب میں ننکانہ صاحب جھنگ کاروبار کے لئے آیا اور میں نے کاسمیٹیکس کا کاروبارشروع کیا دھجی روڈ پر ایک  دوکان کر ائے پر لی نئی مارکیٹ میں  کام کرنا  میرے لئے…

پاکستان میں اقلیتوں کے قوانین  اور ان کے حقوق

2017 میں جب میں ننکانہ صاحب جھنگ کاروبار کے لئے آیا اور میں نے کاسمیٹیکس کا کاروبارشروع کیا دھجی روڈ پر ایک  دوکان کر ائے پر لی نئی مارکیٹ میں  کام کرنا  میرے لئے کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن میں نے بڑی محنت کے ساتھ کاروبار کیا اور اس دوکان نے مجھے بہت زیادہ ترقی دی   اس میں بہتر مصنوعات ہونے کی وجہ سے میرا کاروبار بہت زیادہ فروغ پاررہا تھا سنگھ صاحب کے نام سے اس کاروبار نے بہت ترقی کی جسپال سنگھ جب یہ بتارہے تھے تو وہ قدر دکھی بھی نظرآئے جسپال سنگھ کا کہنا تھا اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے انہوں نے 2019 میں اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے اہنوں نے ریل بازار میں ایک اور دوکان کرائے پر لی اور یہاں پر بھی اپنا کاروبار شروع کردیا اگرچہ بازار میں اور بھی بہت سے دوکانیں تھیں لیکن بہتر مصنوعات کی وجہ میرے کاروبار نے فروغ پانا شروع کردیا لیکن اس دوران ایک کاروباری شخصیت نے بجائے میرا کاروباری مقابلہ کرنے کے میرے مذہب کو بنیاد بنا کر مجھ پر تنقید شروع کی جس کی وجہ بات تنازع کی صورت اختیار کرگئی اگرچہ اس مسلئے کو حل کرنے میں میرے مسلمان بھائیوں اور انجمن تاجران نے بہت اہم کردار اد کیا اور معاملے کو کاروباری اور قانونی انداز میں نمٹا دیا لیکن دکھ اس بات کو ہوا کہ کاروباری معاملہ اس حد تک رہنا چاہئے تھا لیکن برحآل اچھی بات یہ بھی ہوئی کہ مسلمان بھائیوں نے میرا بہت ساتھ دیا لیکن میں تنازع حل ہونے کے بعد وہ دوکان بند کر دی تاکہ آآئندہ وہاں مزید کوئی تنازع پیدا نہ ہو اور اب صرف اپنی پرانی دوکان دھجی روڈ پر ہی کام کر رہا ہوں

یہ کہانی صرف جھنگ کے  جسپال سنگھ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنے والی اقلیتوں کے حوالےسے مسائل بھی کچھ اسی طرح کے ہیں اور بہت واقعات میں بنیادی وجہ کاروبار یا لین دین کے مسائل ہی سامنے آتے ہیں اگر ہم اس حوالے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک نظر ڈالیں توکئی قوانین بہت مناسب ہیں لیکن ان پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتیں برادری بہت زیادہ مسائل کا شکار بھی رہی ہے ۔

پاکستان میں اردو اور دیگر زبانوں میں استعمال ہونے والے لفظ اقلیت کو اصل میں عربی زبان سے لیاگیا جس سے مراد قلیل یاتھوڑی مقدار ہوتا ہے انگریزی میں اس کا متبادل لفظ منیارٹی  بھی تھوڑے، کم اور کم تعداد میں بیان کیاجاتا ہے پاکستان دنیا میں مسلم آبادی کے مطابق دوسرا بڑا ملک ہے جس کی آبادی تقریباً 25کروڑ کے قریب ہے پاکستان جب 1947میں وجود میں آیا تو اس کی آبادی میں اقلیتوں کا تناسب 23فیصد تھا جن میں ہندو، سکھ، مسیحی،بہائی، پارسی، احمدی وغیرہ شامل تھے

پاکستان کے وجود میں آنے کے لیے قائد اعظم کا ساتھ اس وقت کے بڑے اقلیتی راہنماوں نے دیا جن میں مغربی پنجاب کے اس وقت کے اسپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا ایڈووکیٹ،چوہدری لعل چندو، فوٹو گرافر اور حمانی ایف ای چوہدری اور جی ایل اولیا رام بھی شامل تھے مسیحی برادری نے بھی پاکستان کے قیام کی بڑی کھل کر حمایت کی جن میں جوشا افضل الدین جیسے لیڈر شامل تھے بہائیوں نے بھی اس وقت پاکستان ریاست کی ترقی اور تعمیر میں اہم کردار اداکیا انہوں نے اس وقت مہاجروں کو پناہ دے کر ان کی مدد کی انہوں نے پارسیوں لوگوں کے ساتھ مل کر ہجرت کرنے والے لوگوں کی بحالی،ان کی صحت، تعلیم،روزگار کے لیے اپنے گھروں، سکول، کالجوں،ہسپتالوں اورکارباری اداروں کے دروازے کھول دیئے ۔ پارسیوں نے قائد اعظم سے ملاقات کے بعد مہاجروں کے لیے اپنے دو بڑے سکول میرینہ اور بس کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھول  کر ان کو وقف کردیا پارسی راہنما جمشیدنوونجی کراچی میونسپلٹی کے صدر تھے انہوں نے سکول، ہسپتال،روزگاری کے موقع تعلیم،تولیدی مراکز،جمشید کوارٹر،شہر میں پانی کے مسائل حل کرنے جیسے کئی بڑے فلاحی منصوبے مکمل کراکر پاکستان کے تمام نسل ورنگ سے بے نیاز لوگوں کی مدد کی کراچی کے آرچ بشپ سیلا نہا ان کے دوست لیگری سوریز(LAIGRIE SAURES) (SALDANHA)نے قائد اعظم کے منع کرنے پر ملک چھوڑنے کا پروگرام ختم کردیا اور پاکستان میں سرکاری نوکری کرکے ریٹائرہوئے اور بعد از آسٹریلیا چلے گئے مسیحی برادری کا پاکستان میں رہنے کا فیصلہ صرف رضاکارانہ تھا بلکہ انہوں نے نوزائید ملک کے لیے اپنی شناخت کی بھی قربانی دی پنجاب باونڈری کمیشن جوکہ دین محمد جسٹس، مظفر اللہ خان اور سردار بلدیوسنگھ پر مشتمل تھا اس کے سامنے پیش ہوکر مسیحی برادری کے بڑے راہنماوں نے اپنا بیان درج کراکر کہاکہ ان کی آبادی کو پاکستان کاحصہ تصور کیاجائے ان کی حمایت آگے چل کر پاکستان میں مسلم لیگ کا ساتھ دے کر چلنے کا فیصلے نے بڑا کردار اداکیا،قائد اعظم نے اقلیتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسیحی راہنما چوہدری چندولعل اور سکھ راہنما گیانی کرتار سنگھ سے لاہور میں ملاقات کی اور ان کو آفر کی کہ پاکستان کی حمایت کرنے کی صورت میں آئندہ پاکستان کی افواج سپہ سالار ہمیشہ ایک سکھ ہوگا یااس کے متبادل میں ایک سکھ ہی پاکستان کا وزیر دفاع ہوگا ماسٹر کرتار سنگھ نے اس تجویز کو ٹھکرا کر انڈیا کی حمایت کا اعلان کردیا دوسری طرف چوہدری چندولعل نے اپنی برادری کی حمایت سے قائد اعظم کو مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک اقلیتی افراد نے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردارادا کیا۔قائد اعظم نے مملکت خداداد  کے وجود میں آتے ہی مذہبی رواداری کو فروغ دیا جبکہ پاکستان میں ایک مسیحی جج اے آر کارکارئیلنس 1960 کرسی عدل کے سپہ سالار رہ چکے ہیں۔ ایک اور ہندو جج رانا بھگوان داس چیف جسٹس آف پاکستان بنے اور اپنے منصفانہ اقدامات سے پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئے۔

جبکہ 2009 میں ایک اور مسیحی جمشید رحمت اللہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ سندھ میں اس وقت بھی سینکڑوں جج ٹرائل کورٹ میں کام کر رہے ہیں۔

اب اگر بات کی جائے کہ پاکستان میں اقیلتوں کی آبادی کے حوالے سے تو 1961 ء کی مردم شماری میں پاکستان میں 5 لاکھ، 884 عیسائی، 4 لاکھ، 18 ہزار، 11 افراد کا تعلق شیڈول کاسٹ سے تھا، جب کہ اونچی ذات کے ہندو 2 لاکھ، 3 ہزار، 794 تھے 1972 ء میں ہونے والی مردم شماری میں عیسائیوں کی تعداد 9 لاکھ، 7 ہزار، 861 تھی، شیڈول کاسٹ 6 لاکھ، 3 ہزار، 369 اور اونچی ذات کے ہندو 2 لاکھ، 96 ہزار، 837 تھے۔

1981 ء کی مردم شماری کے فارم میں شیڈول کاسٹ کا خانہ ختم کر کے انہیں بھی ہندو ڈکلیئر کر دیا گیا۔ جس کے مطابق ملک میں 13 لاکھ، 10 ہزار 426 عیسائی اور 12 لاکھ، 76 ہزار، 116 ہندو موجود تھے۔ 1998 ء میں ہونے والی مردم شماری کے فارم میں شیڈول کاسٹ کا خانہ بحال ہوا۔ نتائج کے مطابق، 20 لاکھ، 92 ہزار 902 عیسائی، 21 لاکھ، 11 ہزار، 217 ہندو اور 3 لاکھ 32 ہزار 343 شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جب کہسنٹر فار سوشل جسٹس کی ایک 2022 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق  2017 ء کی مردم شماری کو اگرچہ بیشتر شہریوں اور سیاسی جماعتوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا لیکن ا س کے مطابق پاکستان 207اعشاریہ 68 ملین آبادی کے ساتھ دنیا کا 5 بڑا ملک ٹہرا۔اعداد شمار بتاتے ہیں پاکستان میں مسلم آبادی 96 اعشاریہ 47 فیصد ملسم آبادی جبکہ ہندو 1 اعشاریہ 73 فیصد مسیحی 1اعشاریہ 7 فیصد شیڈولڈ کاسٹ صفر اعشاریہ 41 فیصد ،احمدی صفر اعشاریہ 09 فیصد جبکہ دیگر ا قلیتوں کے شہری بشمول سکھ، ہارسی، بہائی بدھ مت اور کیلاش وغیرہ صفر اعشاریہ 02 فیصد ہیں۔

2018 ءکی مردم شماری کے مذہب کی بنیاد پر اکٹھے کیے گئے نتائج اب تک سامنے نہیں آئے۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کی ایک اور  رپورٹ کے مطابق اقلیتوں کی آبادی کے اعداد و شمار کافی الجھاؤ پر مبنی ہیں۔ مثال کے طور پاکستان میں اقلیتوں کی مجموعی آبادی میں مسیحی 1981 میں 47 فیصد تھے جو 2017 میں کم ہو کر 36 فیصد رہ گئے۔ اسی طرح ہندو جو اقلیتوں میں 46 فیصد تھے وہ2017 میں 49 فیصد ہو گئے۔ اسی عرصے میں احمدی چار فیصد سے کم ہو کر دو فیصد ہو گئے۔ شیڈولڈ کاسٹ بڑھ کر 12 فیصد اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد تین فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد رہ گئی

پاکستان میں جہاں تک اقلیتوں کے لئے قانون سازی کی بات ہے تو کسی بھی ملک کا آئین ایک مقد س کتاب ہوتا ہے جسے پوری قوم کے لئے ترتیب دیا جاتا ہے ۔آئین میں کسی فرد کی ذات ، مذہب او رصنف کی بیاد پر کوئی تعصب یا امتیاز نہیں بر تا جاتا ۔ ساؤ تھ ایشیاء پارٹنر شپ کی 2014 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 1973 کے آئین کے آرٹیکل 20،21،22،28،25،36 جبکہ اس حوالے سے آئین میں آرٹیکل 37 اور 38 میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے بات کی گئی ہے ۔اب اگر اقلیتوں کی نمائندگی کے حوالے سے ابت کی جائے تو اقلیتوں کو سینیٹ آف پاکستان میں چار مخصوص نشستیں، قومی اسمبلی میں 10، اور صوبائی اسمبلیوں میں الگ نشستیں دی گئی ہیں۔ اقلیتوں کی کل 23 نشستیں ہیں، جن میں بلوچستان میں 3، کے پی کے میں 3، پنجاب میں 8 اور صوبہ سندھ میں 9 نشستیں مخصوص ہیں۔ اقلیتوں کو قومی دھارے میں لاتے ہوئے تعلیم، ملازمتوں اور کاروبار کے مواقع مساوی حقوق فراہم کرنے کے لئے ہیں۔ سیاست کے میدان میں کئی کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود اقلیتیں اب بھی فیصلہ سازی کے محاذ پر پر بہت پیچھے ہیں جس کی وجہ سے وہ حق نمائندگی کو بہتر انداز میں ادا کرنے سے محروم ہیں۔

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے سماجی کارکن آصف منور کہتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 25 اے کہتا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کے برابر کے حقوق حآصل ہیں لیکن اگر بات کی جائے مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے تو پاکستان میں یہ انتخابی کی عمل کی تو وہ اتنا بہتر نہیں ہے اس میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے ۔ قومی اسمبلی میں اقیلتوں کی مخصوص نشستیں رکھیں جاتیں ہیں جس کی وجہ سے اقلیتی ممبران قومی و اسمبلی کو ہماری کمیونٹی مکمل طور پر تسلیم نیہں کرتی اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کی بات اس انداز میں نہیں سنی جاتی جس انداز میں ایک منتخب  ممبر اسمبلی کی سنی جاتی ہے اسی طرح لوکل گورنمنٹ سسٹم میں بھی چونکہ مخصوص نشستیں ہوتیں ہیں اور ان کی صورت حا ل بھی اس سے مختلف نہیں ہوتی لوکل گورنمنٹ میں سب بہتر سسٹم مشرف دور کا تھا جو مخلوط طرز کا تھا جس میں بہترین بات یہ تھی کی ووٹ دیا بھی جاسکتا تھا اور لیا بھی جاسکتا تھا جس سےمذہبی ہم آہنگی کی فضا قائم ہوتی تھی جس بہتر انداز میں مسائل ہوجاتے تھے لہذ ا بہتر یہی ہے کہ ہمارے نمائندے براہراست منتخب ہوکر آنے چاہئے جس سے بہت بہتری آسکتی ہے لہذا قانون ساز ی کرتے ہوئے اقلیتوں سے بات کی جانی چاہئے ۔سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں بہت سے وعدے کرتیں ہیں  لیکن وہ کبھی پورے نہیں کئے گئے اس پر سنٹر فار جسٹس کی ایک جامع تحقیق بھی ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

سماجی کارکن سردار جسپال سنگھ کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں بہتر کام ہورہا ہے لیکن بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے مقامی سطح البتہ مسائل ضرورہیں لہذا اس میں مزید بہتری آنی چاہئے لہذا اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے زیادہ مسائل مسیحی  اور ہندو بھائیوں کے لئے ہیں کیونکہ وہ تعداد میں زیادہ ہیں لہذا ان کے لئے کچھ قوانین میں بہتری لانے کی ضرورت ہے لہذا اس پر کام  کیا جانا چاہیے ۔

دونوں سماجی کارکنان کی رائے اگر چہ کسی حد تک مخلتف ہے لیکن ایک بات جو مشتر ک ہے وہ یہ ہے کہ کچھ قوانین میں بہتری کی گنجائش ضرور ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے جہاں تک حقائق کی بات ہے توہ وہ بھی کچھ اس مختلف نہیں بہت سے فیصلوں میں اقلتیی نمائندوں کی شامل نہیں جاتا جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے قائم ہونے والی 27 رکنی کمیٹی برائے آئینی اصلاحآت کمیٹی میں اقیلتوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی اور یہ صورتحآل آئینی ترمیم پر عملدرآمد کے لئے قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی تشکیل میں بھی قائم رہی ۔سیاسی  جماعتوں کے پلیٹ فارم سے متنخب ہونے والے ممبران کو اکثراوقات اپنی پارٹی کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے آواز اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں ۔ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی حثیت کو بہتر بنانے کے لئے اہم پالیسی معاملات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ اقلیتی کی اکثریت نہ صرف غریب بلکہ ناخوادہ بھی ہے اس لئے وہ معاشرتی اور معاشی لحاظ سے پسمنادہ ہے لہذا اقلیتی آبادی کو معاشی طور ہر مستحکم اور تعلیم یافتہ بنانے کی بھی ضرورت ہے ، مشترکہ انتخآبی نظام کی بحالی سے سیاسی عمل میں اقلیتوں کی شرکت یقینی بنانے کے لئے ان کو تمام نشستوں پر مواقع فراہم کئے جانے چاہئے ۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں