سپریم کورٹ:مخصوص نشستیں، پشاورہائیکورٹ کافیصلہ کالعدم قرار،نشتیں پی آئی ٹی کو دی جائیں
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے آج اسلام آباد میں آٹھ اور پانچ کے تناسب سے…

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے آج اسلام آباد میں آٹھ اور پانچ کے تناسب سے فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستیں لینے کی اہل ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے رواں سال مارچ میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی لارجز بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
لارجر بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ جسٹس منیب اختر، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شاہد وحید، جسٹس اظہر حسن رضوی شامل تھے۔
اس کے علاوہ جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس امین الدین بھی بینچ کا حصہ تھے۔
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ سنانے سے قبل فل کورٹ کے دو اجلاس بھی منعقد ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ 8 کی اکثریت کا فیصلہ ہے جو جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔
فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اور رہے گی، انتخابی نشان کسی سیاسی جماعت کوالیکشن لڑنے سےنہیں روکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 80 ارکان اسمبلی کی فہرست پیش کی، 80 میں سے 39 ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سےتھا، پشاور ہائی کورٹ اورالیکشن کمیشن کافیصلہ غیرقانونی تھا، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کیلئے درخواستیں 15دن میں جمع کرائے.
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا اہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نشستوں سے متعلق فہرست الیکشن کمیشن کوفراہم کرے اور نشستوں کیلئے درخواستیں 15دن میں جمع کرائے۔
سپریم کورٹ نے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا فیصلے کا اطلاق قومی اسمبلی اورتمام صوبائی اسمبلیوں پر ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پنجاب،کےپی اور سندھ میں بھی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں ، پی ٹی آئی کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت یا آزاد امیدوار تصورنہ کیا جائے۔
یاد رہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تیرہ رکنی فل کورٹ نے نو جولائی کو سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تیرہ رکنی فل کورٹ نے نو جولائی کو سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
جس کے بعد چیف جسٹس کی سربراہی میں دو مشاورتی اجلاس بھی ہوئے تھے۔


