728 x 90

سی پی ڈی آئی اور کاکس کا پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جدوجہد کا جائزہ لینے کے حوالے سے گول میز کانفرنس کا انعقاد

سی پی ڈی آئی اور کاکس کا پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جدوجہد کا جائزہ لینے کے حوالے سے گول میز کانفرنس کا انعقاد

خواتین پارلیمانی کاکس (WPC) نے سنٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشیٹوز (CPDI) کے تعاون سے قومی اسمبلی میں “وعدوں سے عمل تک: پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جدوجہد کا جائزہ” کے عنوان سے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں

خواتین پارلیمانی کاکس (WPC) نے سنٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشیٹوز (CPDI) کے تعاون سے قومی اسمبلی میں “وعدوں سے عمل تک: پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جدوجہد کا جائزہ” کے عنوان سے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں سول سوسائٹی کے ارکان، ممتاز خواتین پارلیمنٹیرینز، قانونی ماہرین، طلباء، اور نوجوان کارکن شامل تھے، نے شرکت کی۔

سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ اس کے خاتمے کے لیے کئی قوانین موجود ہیں لیکن قانون سازی اور عمل درآمد کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور سماجی ڈھانچے میں موجود تشدد کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

ڈبیلو پی سی کی سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی، نے خواتین کے حقوق کے فروغ اور صنفی حساس قانون سازی کے لیے WPC کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے صنفی بنیاد پر تشدد کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں میڈیا کی اہمیت پر زور دیا

تقریب کی مہمان خصوصی، سینیٹر شیری رحمان، نے صنفی بنیاد پر تشدد کے حقیقی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے غیرت کے نام پر قتل، تیزاب حملوں، اور گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور قوانین کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔

ایم این اے صبا صادق نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف نظامی امتیاز کو چیلنج کرنے اور معاشرے میں ہر سطح پر صنفی مساوات کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

ایم این اے شہلا رضا نے صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا، جس میں سماجی اور انفرادی عوامل دونوں کا احاطہ کیا جائے۔

بلوچستان اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے بلوچستان میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر بات کی، جہاں ثقافتی اور سماجی روایات صنفی بنیاد پر تشدد کو بڑھاتی ہیں۔

نے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی کے چیلنجز اور اس کے حل پر زور دیا۔

ڈاکٹر یسریٰ گلانی نے معذور خواتین کے حقوق پر بات کی اور پالیسیوں کو جامع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صحافی اور لکھاری تنزیلہ مظہر نے میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے ذمہ دار صحافت کی ضرورت پر زور دیا۔

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کی چیئرپرسن، ام لیلیٰ اظہر نے جی بی وی کے ڈیجیٹل ڈیٹا کے حوالے سے کمیشن کی کاوشوں پر روشنی ڈالی اور آئندہ سال مارچ میں ایک قومی پورٹل کے آغاز کا اعلان کیا۔

تقریب کے اختتام پر ایم این اے طاہرہ اورنگزیب نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں۔

گول میز کانفرنس پاکستان میں خواتین کے لیے محفوظ اور مساوی معاشرے کی تشکیل کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos