خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جنوبی افریقہ کی نوانیتھم نَوِ پلّے 2026 کے نوبیل امن انعام کی حق دار قرارمعاشی بااختیاری اور ترقی پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس منگل سے اسلام آباد میں شروع ہوگیوزیر خزانہ کا پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارتی شراکت داریوں کے فروغ پر زورصاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت کی دھواں دار بیٹنگ، پاکستان نے سری لنکا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں شکست دے دیآج ڈاک کا عالمی دن منایا گیابھارت کا کوئی یکطرفہ اقدام جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا، ترجمان دفتر خارجہپاکستان، ایران اور امریکہ تنازع کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آرچھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی سے معیشت مستحکم ہوگی، وزیراعظم
بین الاقوامی

آج ڈاک کا عالمی دن منایا گیا

دنیا بھر میں آج 9 اکتوبر کو ڈاک کا عالمی دن منایا گیا، جس کا مقصد ڈاک کے نظام کی اہمیت، سماجی و اقتصادی ترقی میں اس کے کردار اور دنیا بھر کے لوگوں…

آج ڈاک کا عالمی دن منایا گیا

دنیا بھر میں آج 9 اکتوبر کو ڈاک کا عالمی دن منایا گیا، جس کا مقصد ڈاک کے نظام کی اہمیت، سماجی و اقتصادی ترقی میں اس کے کردار اور دنیا بھر کے لوگوں کو آپس میں جوڑنے میں اس کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ رواں سال اس دن کا موضوع ’’ڈاک کا ایک نیٹ ورک، لامحدود امکانات‘‘ (One Postal Network, Infinite Possibilities) ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ڈاک کے عالمی نظام کی وسعت اور مستقبل کے نئے امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاک کا عالمی دن ہر سال 9 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس تاریخ کو 1874 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کے قیام کی یاد میں منتخب کیا گیا۔ اس عالمی دن کا باقاعدہ اعلان 1969 میں جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقدہ یونیورسل پوسٹل یونین کی کانگریس میں کیا گیا، جس کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں یہ دن منایا جانے لگا۔

یونیورسل پوسٹل یونین اقوام متحدہ کا ایک خصوصی ادارہ ہے، جو رکن ممالک کے درمیان ڈاک کے نظام میں تعاون، بین الاقوامی ڈاک کی ترسیل اور عالمی سطح پر ڈاک کی خدمات کو مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یکم جولائی 1948 کو یہ ادارہ اقوام متحدہ کے خصوصی ادارے کی حیثیت سے وابستہ ہوا۔ اس تعاون کی بدولت مختلف ممالک کے درمیان خطوط، دستاویزات اور پارسل کی ترسیل کے لیے مشترکہ نظام کو فروغ ملا۔

ڈیجیٹل دور میں ڈاک کا بدلتا کردار

رواں سال کا موضوع اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ڈاک کا نظام محض خطوط اور پارسل کی ترسیل تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید دور میں یہ کاروبار، تجارت، مالیاتی خدمات اور ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ آن لائن خریداری اور ای کامرس کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ڈاک اور پارسل کی ترسیل کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہے، جبکہ دور دراز دیہی علاقوں میں ڈاک خانے اب بھی عوامی خدمات تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ڈاک کے نیٹ ورک میں 6 لاکھ 60 ہزار سے زائد دفاتر اور تقریباً 46 لاکھ کارکن شامل ہیں۔ یہ وسیع نیٹ ورک شہروں اور دیہات کے درمیان رابطے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں اور سماجی و معاشی مواقع کو فروغ دینے میں بھی معاون ہے۔

پاکستان میں ڈاک کے نظام کی اہمیت

پاکستان میں پاکستان پوسٹ تاریخی طور پر خطوط، سرکاری دستاویزات، پارسل اور دیگر ڈاک کی ترسیل کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ بالخصوص چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں ڈاک کا نظام شہریوں، سرکاری اداروں اور کاروباری حلقوں کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے تیز رفتار فروغ کے باوجود ڈاک کی خدمات کی ضرورت برقرار ہے، خصوصاً وہاں جہاں ہر شخص کو انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل سہولتیں یکساں طور پر میسر نہیں۔

ماہرین کے نزدیک ڈاک کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹریکنگ، تیز رفتار پارسل سروس، شفافیت، بروقت ترسیل اور صارفین کی شکایات کے مؤثر ازالے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاک کے روایتی نیٹ ورک کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرکے چھوٹے کاروباروں اور عام شہریوں کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاک کا عالمی دن اس عزم کی تجدید کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور میں ڈاک کی خدمات کو زیادہ مؤثر، قابل اعتماد اور ہر شہری کی دسترس میں لایا جائے تاکہ دنیا بھر میں رابطوں، تجارت اور عوامی سہولتوں کے نئے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں