728 x 90

پاکستان آرمی کے 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد – چیف آف آرمی اسٹاف کی صدارت میں اہم فیصلے

پاکستان آرمی کے 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد – چیف آف آرمی اسٹاف کی صدارت میں اہم فیصلے

پاکستان آرمی کے 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد – چیف آف آرمی اسٹاف کی صدارت میں اہم فیصلے راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) جنرل سید عاصم منیر نشان امتیاز (ملٹری) نے جنرل ہیڈکوارٹر (GHQ) میں دو روزہ 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔ کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف افسران، اور تمام

پاکستان آرمی کے 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد – چیف آف آرمی اسٹاف کی صدارت میں اہم فیصلے

راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) جنرل سید عاصم منیر نشان امتیاز (ملٹری) نے جنرل ہیڈکوارٹر (GHQ) میں دو روزہ 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔ کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف افسران، اور تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔

کانفرنس کا آغاز شہداء پاکستان، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور ان شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی اور خراج عقیدت پیش کرنے سے ہوا جنہوں نے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، بشمول ان اہلکاروں کے جو حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران اسلام آباد میں شہید ہوئے۔

کانفرنس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی گئی اور عالمی قانونی اقدامات کے ذریعے جارحیت کے خاتمے کی حمایت کی گئی۔

شرکاء کو موجودہ داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا گیا تاکہ بدلتے ہوئے روایتی اور غیر روایتی خطرات کا سامنا کیا جا سکے۔

کانفرنس میں انسداد دہشت گردی کے جاری آپریشنز کا جامع جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں، اور ان کے پیچھے کام کرنے والی دشمن قوتوں کو غیر مؤثر کیا جائے گا، خاص طور پر بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں جیسے بی ایل اے مجید بریگیڈ کے خلاف کارروائیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

کانفرنس میں دارالحکومت میں اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت اور معزز غیر ملکی وفود کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی کے بعد ہونے والے مذموم پروپیگنڈے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس منصوبہ بند اور منظم پروپیگنڈے کو قومی اداروں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا گیا جو کہ بیرونی عناصر کی حمایت سے کی جا رہی ہے۔

فورم نے زور دیا کہ حکومت کو آزادیٔ اظہار کے بے جا اور غیر اخلاقی استعمال کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور ضوابط نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس نے اس بات پر زور دیا کہ پاک فوج قوم کے دفاع اور عوام کی خدمت کے لیے مکمل طور پر غیر جانبدار اور سیاسی وابستگی سے پاک رہ کر اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی۔

افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کے استعمال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور زور دیا گیا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے لیے بہتر تعلقات پر توجہ دینا ضروری ہے۔

کانفرنس نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے جاری سماجی و اقتصادی ترقی کی کوششوں کی مکمل حمایت کا عزم کیا تاکہ ان بہادر عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

اختتامی کلمات میں چیف آف آرمی اسٹاف نے پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری، اور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے پاک فوج کی غیر متزلزل وابستگی پر زور دیا اور کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود یہ عزم ہمیشہ قائم رہے گا۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos